Al-Risala · October 1996 · page 13

باشعور افراد

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۳

باشعور افراد

عبد اللہ بن ابی قدیم مدینہ کا سب سے بڑا سردار تھا۔ حتی کہ مدینہ کے باشندے اس پر متفق ہوگئے تھے کہ اُس کو اپنا بادشاہ بنالیں۔ مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کو چھوڑ کر مدینہ آگئے تو آپ ہی کو مدینہ کے لوگوں نے بڑا مان لیا۔ مدینہ میں ابتدا مہاجرین اقلیت میں تھے۔ مگر مختلف مقامات سے لوگ ہجرت کر کے آتے رہے، یہاں تک کہ مدینہ میں مہاجرین کی اکثریت ہوگئی اور انصار اقلیت میں ہوگئے جن کا عبد اللہ بن ابی سردار چلا آرہا تھا (تفسیر ابن کثیر ۳۰/۴) ان باتوں کی وجہ سے عبد اللہ بن ابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین سے سخت بغض ہوگیا۔ وہ کسی نہ کسی طرح آپ کو اور مہاجرین کو مطعون کرتا اور انھیں نیچا دکھانے کی کوشش کرتا۔ اسی سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ غزوہ بنی المصطلق میں عبد اللہ بن ابی اپنے قبیلہ کے بہت سے لوگوں کے ساتھ تھا۔ راستہ میں ایک واقعہ سے فائدہ اٹھا کر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کے خلاف دشنام طرازی کی۔ اپنے قبیلہ کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ہم لوگ مدینہ کے عزت والے لوگ ہیں۔ اگر ہم مدینہ پہنچ جائیں تو ہم لوگ اپنے شہر سے ان ذلت والوں کو نکال دیں گے (المنافقون ۸)

یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ قافلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ کے قریب پہنچ گیا۔ اس وقت ایک نہایت غیر معمولی واقعہ ہوا جو راوی کے الفاظ میں یہ تھا :

ان ابن عبد الله وقف لابيه اس کے لڑکے عبد اللہ اپنے باپ عبد اللہ بن ابی بن عبد الله بن ابی بن سلول عند سلول کے لیے مدینہ کے دروازہ پر کھڑے ہو گئے ۔ مضيق المدينة فقال قف فوالله عبد اللہ بن ابی وہاں پہنچا تو انھوں نے کہا کہ ٹھہرو، لا تدخلها حتى يأذن رسول الله خدا کی قسم تم شہر میں داخل نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ صلى الله عليه وسلم في ذلك۔ فلما جاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت دے دیں۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو استأذنه في ذلك فاذن له عبد اللہ بن ابی نے آپ سے اجازت مانگی۔ آپ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page