باشعور افراد
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۴
فنارسلہ حتی دخل المدینۃ نے اس کو اجازت دے دی۔ اس کے بعد عبد اللہ (البدایہ والنہایہ ۳/ ۱۵۸) نے اس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مدینہ میں داخل ہوگیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ صحابہ کرام اتنے دانش مند لوگ تھے کہ وہ بتائے بغیر باتوں کو جان لیتے تھے۔ حضرت عبد اللہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا تھا۔ انھوں نے بطور خود یہ جان لیا کہ اس موقع پر انھیں کیا کردار ادا کرنا ہے۔ اس وقت موزوں ترین بات یہ تھی کہ عبد اللہ بن ابی کے سامنے اس کا عملی مظاہرہ ہو جائے کہ اب مدینہ کے بڑے تم نہیں ہو، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے بڑے اور مدینہ کے سردار ہیں۔
حضرت عبد اللہ نے اس بات کے مظاہرہ کا انتہائی بروقت اور صحیح طریقہ اختیار کیا۔ اس کام کو کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ تھا کہ عبد اللہ بن ابی کا بیٹا اسے انجام دے۔ حضرت عبد اللہ نے اس حقیقت کو سمجھا اور عین وقت پر وہ مطلوبہ کردار ادا کیا جو اس موقع پر انھیں ادا کرنا چاہیے تھا۔ کسی مشن کی کامیابی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ اس کو با شعور افراد کی ایک ٹیم مل جائے، اس طرح کی با صلاحیت ٹیم کے بغیر کوئی بھی مشن کامیاب نہیں ہو سکتا۔
اس ٹیم کے افراد میں دو صفت لازمی طور پر ہونا چاہیے۔ ایک یہ کہ اس کا ہر فرد اطاعت گزار ہو۔ اس سے جو کچھ کہا جائے وہ ہر حال میں اس کی تعمیل کرے۔ وہ کسی عذر کو عذر نہ بنائے، خواہ وہ ذاتی عذر ہو یا خارجی عذر۔
دوسری صفت یہ ہے کہ اس ٹیم کے افراد اتنے باشعور ہوں کہ وہ کہے بغیر باتوں کو جان لیں۔ وہ بتائے بغیر صورت حال کو سمجھ لیں۔
اس دوسری صفت کی اہمیت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں بہت سی باتیں بتائی نہیں جاسکتیں۔ جب مشن پھیلتا ہے اور نئے نئے تقاضے سامنے آتے ہیں تو یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ لوگوں کو ساری ضروری باتیں بتادی جائیں۔ ایسے وقت میں قابل عمل صورت صرف یہ ہوتی ہے کہ آدمی خود اپنی عقل سے باتوں کی گہرائی کو سمجھے، وہ خود ہر موقع پر اس کے موافق ضروری اقدام کر سکے۔ کوئی بھی دوسری چیز اس شعوری پختگی کا بدل نہیں بن سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues