اتحاد کی شرط
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۶
دوسرے افراد جن کی نگاہیں خلافت کی طرف اٹھ رہی تھیں انہیں ان کے اپنے رجحان اور محرک کے حوالہ کردیا۔
تاہم اس کے بعد حضرت معاویہ کے زمانہ سے عصبیت اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ اقتدار پر اسی مزاج کا تسلط ہوگیا۔ دینی رجحان کمزور پڑگیا۔ اس کی جگہ ملکیت اور گروہی رجحان کی ضرورت کا احساس بڑھ گیا۔ چنانچہ اگر ایسے شخص کو اقتدار سونپا جائے جو گروہی عصبیت کے اعتبار سے ناقابل قبول ہو تو اس کو رد کردیا جاتا ، تھوڑے ہی عرصہ میں اس کی حکومت انتشار کا شکار ہو جاتی اور جماعت میں اختلاف پڑ جاتا ۔ جیسا کہ بعد کے زمانہ میں پیش آیا ۔ (مقدمہ ابن خلدون ، صفحہ ۲۱۱)
دور اول کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ ملت میں اتحاد کس طرح آتا ہے ، اور کن اسباب سے وہ ختم ہو جاتا ہے ، وہ ہے ، ابن خلدون کے الفاظ میں ، وازع دینی کا ہونا یا نہ ہونا ۔ گویا اتحاد کبھی اتحاد کی اپیلیں کرنے سے نہیں آتا ، بلکہ اس وقت آتا ہے جب کہ پورے معاشرہ میں اس کے موافق غالب دینی رجحان موجود ہو۔
اتحاد ملت کا کام دراصل اصلاح ملت سے شروع ہوتا ہے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ معاشرہ میں دینی فضا پیدا کی جائے۔ لوگوں کو اس اعتبار سے با شعور بنایا جائے کہ تمھیں آخرت میں اپنے قول و عمل کا حساب اللہ تعالی کو دینا ہے۔ لوگوں میں گہری آخرت پسندی پیدا کی جائے تاکہ وہ آخرت کے فائدے کے لئے دنیوی نقصان کو برداشت کر سکیں۔ لوگوں کو اسلام کے بارہ میں اس حد تک ایجوکیٹ کیا جائے کہ جب خدا اور رسول کا حکم سامنے آجائے تو وہ اپنی گردن جھکا دیں ، خواہ وہ ان کے ذوق کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ان میں یہ مزاج ہو کہ اللہ کی خاطر وہ اختلاف کے باوجود متحد ہو جائیں۔
کسی گروہ میں اتحاد پیدا ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ اتحاد ہمیشہ زیر اتحاد افراد کی قربانیوں سے قائم ہوتا ہے۔ رائے کی قربانی ، مفادات کی قربانی ، اپنے کو پیچھے کر لینے کی قربانی، اپنے اختلاف کو ختم کرنے کی قربانی ۔ الفاظ رکھتے ہوئے چپ ہو جانے کی قربانی ۔ اس لئے پہلے ذہن بنایا جاتا ہے ، اس کے بعد اتحاد قائم ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues