Al-Risala · October 1996 · page 15

اتحاد کی شرط

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۵

اتحاد کی شرط

خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مسلمانوں کی اجتماعیت ٹوٹ گئی اور لوگوں میں کثرت سے اختلاف پیدا ہو گیا۔ اس وقت ایک شخص نے حضرت علی سے پوچھا کہ مسلمانوں کا کیا معاملہ ہے کہ آپ کے زمانہ میں لوگ اختلافات میں پڑ گئے ہیں، جب کہ ابو بکر و عمر کے زمانہ میں یہ اختلافات نہ تھے۔ حضرت علی نے جواب دیا : لان ابا بکر و عمر کاناد المبین علی مثلی و انا اليوم والی علی مثلك (یعنی اس کا سبب یہ ہے کہ ابو بکر و عمر میرے جیسے لوگوں کے اوپر حکمراں تھے، اور میں تمہارے جیسے لوگوں کے اوپر حکمران ہوں۔

ابن خلدون نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دینی حکومت کے قیام کے لئے اس کے مطابق دینی رجحان (الوازع الدینی) کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر معاشرہ کی سطح پر غالب دینی رجحان موجود نہ ہو تو محض حاکم کے اسلامی ہونے سے کامیاب اسلامی حکومت قائم نہیں ہو سکتی۔ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ حضرت علی کے اس جواب میں آپ کا اشارہ اسی دینی محرک اور رجحان کی طرف تھا۔ المامون کو دیکھو۔ جب اس نے علی بن موسیٰ بن جعفر الصادق کو اپنا ولی عہد نامزد کیا اور ان کو الرضا کا لقب دیا تو کس طرح عباسیوں نے اس پر شدید ناگواری ظاہر کی۔ انھوں نے ان کی بیعت کو توڑ کر المامون کے چچا ابراہیم بن المہدی کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اور اس کے رد عمل میں ایسا اختلاف پیدا ہوا۔ اور بغاوتا پر آمادہ شورش پسند گروہوں کی ایسی کثرت ہو گئی کہ قریب تھا کہ پورا حکومتی نظام کا لسعدم ہو جائے۔ یہاں تک کہ المامون پیش قدمی کر کے خراسان سے بغداد پہنچا اور علی الرضا کی ولی عهدی کو منسوخ کر کے اپنے خاندانی شخص کو ولی عہد نامزد کیا۔

ابن خلدون نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ خلفائے راشدین ایسے زمانہ میں تھے جب کہ ملوکیت کا مزاج ابھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ اور معاشرہ پر دینی محرک اور رجحان کا غلبہ تھا۔ چنانچہ لوگوں نے اپنے اندرونی محرک کے تحت صرف ایسے ہی فرد کو خلافت کی ذمہ داری سونپی جو دینی اعتبار سے قابل قبول تھا اور اس کو دوسرے کے اوپر ترجیح دی۔ اس کے علاوہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page