بھائی اور بہن
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۰
عظیم و برتر خدا ہے۔ وہ آخر میں ہر ایک سے حساب لینے والا ہے۔ ہر ایک دنیا میں جیسا عمل کرے“ اسی کے مطابق آخوت میں اس کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اس لئے ہر عورت اور ہر مرد کو چاہئے کہ کسی سے معاملہ کرتے ہوئے اس کو وہ محض ایک انسان کا معاملہ نہ سمجھے بلکہ اس کو اللہ کا معاملہ سمجھے۔ وہ اللہ کی پکڑ سے ڈر سے اور قول و عمل کے اعتبار سے اپنے آپ کو اس روش کا پابند بنائے جو اس کو اللہ کے یہاں کامیابی دینے والی ہو۔ قرآن زمین کے اوپر ایک وسیع انسانی سماج بنانا چاہتا ہے۔ ایک ایسا سماج جس میں ہر طرف انسانی برابری کی فضا ہو ، ہر طرف انسانی خیر خواہی کا ماحول ہو۔ اور وہ فضا اور ماحول ختم ہو جائے جس میں لوگ ایک دوسرے کو شک اور نفرت اور رقابت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب لوگوں کے ذہن سے یہ حقیقت نکل جاتی ہے تو انسانی دنیا جنگ کی مانند ہو جاتی ہے۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کو دشمن کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ ہر ایک یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دوسری عورت یا دوسرا مرد میرے راستہ کی رکاوٹ ہے۔ اس لئے مجھے اس کو اپنے راستہ سے ہٹانا ہے۔ ہر ایک کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو اپنا نہیں سمجھتا بلکہ وہ دوسروں کو غیر سمجھنے لگتا ہے۔ یہ سوچ جب زیادہ بڑھ جائے تو دنیا امن کے بجائے بد امنی کا گہوارہ بن جاتی ہے، یہاں پیار کے چشمے بہنارک جاتے ہیں۔ اس کے بجائے نفرت کی گرم ہوائیں ہر طرف چلنے لگتی ہیں۔ قرآن چاہتا ہے کہ تمام عورتوں اور مردوں کو ان کی اصل حقیقت یاد دلائی جائے ۔ ہر ایک کے اندر یہ ذہنی بیداری لائی جائے کہ وہ اپنی اصل سے آگاہ ہو کر اپنی سوچ کو اس کے مطابق بنالیں۔ لوگ آج بھی اسی طرح بھائی اور بہن کی طرح مل جل کر رہنے لگیں جس طرح وہ زندگی کے آغاز میں رہ رہے تھے۔
یہ ذہن جب لوگوں میں نہ رہے تو اس وقت ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے کی ترقی پر آپ کو جلن ہوگی ، کیوں کہ دوسرے کو آپ نے اپنا نہیں سمجھا بلکہ غیر سمجھا۔ دوسرا آگے بڑھے تو آپ چاہیں گے کہ اس کے راستہ میں رکاوٹ ڈال کر اس کو آگے نہ بڑھنے دیں۔ ایک عورت گھر کے اندر یہ چاہے گی کہ وہی ہر چیز کی مالک بن جائے اور دوسروں کے قبضہ میں کچھ نہ رہنے دے۔ حالاں کہ اگر وہ گھر کے دوسرے ارکان کو اپنا سمجھے تو اس قسم کا احساس اس کے اندر نہیں پیدا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues