Al-Risala · October 1996 · page 21

بھائی اور بہن

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۱

ہو سکتا۔ کیوں کہ ایسی حالت میں وہ اپنی چیز کو دوسروں کی چیز سمجھے گی، اور دوسروں کی چیز بھی اس کو اپنی نظر آئے گی۔

سب کو اپنا جانیے اور اپنے کو سب کا سمجھیے ، یہی اچھا گھر بنانے کا سب سے آسان طریقہ ہے اور یہی کسی سماج کو اچھا سماج بنانے کا طریقہ بھی۔

حدیث میں آیا ہے کہ ان العباد كلهم إخوة (ابوداؤد) یعنی خدا کے تمام بندے آپس میں ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ عالمی اخوت کا یہ تصور اسلام کی نہایت اہم تعلیم ہے۔ قرآن وحدیث میں اس کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔

ظاہری طور پر انسانوں میں بہت سے فرق پائے جاتے ہیں۔ مثلاً رنگ کا فرق، صورت کا فرق ، قد کا فرق ، اسی طرح جنس اور نسل کا فرق ، وغیرہ ۔ ان فروق کی بنا پر قدیم زمانہ میں طرح طرح کے تفریقی نظریے بنائے گئے۔ کسی نے برتر نسل اور کمتر نسل کا نظریہ بنایا۔ کسی نے انسانیت کو حاکم طبقہ اور محکوم طبقہ میں بانٹا۔ اس طرح ایک اور دوسرے کے درمیان مختلف قسم کی تفریقیں وجود میں آگئیں۔

مگر اسلام نے ان تمام تفریقی دیواروں کو گرا دیا۔ اس نے تمام انسانوں کو برابر قرار دیا۔ خواہ وہ ایک رنگ کے ہوں یا دوسرے رنگ کے۔ خواہ وہ ایک طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں یا دوسرے طبقہ سے۔ خواہ وہ مرد کی جنس سے ہوں یا عورت کی جنس سے۔

اسلام نے صرف نظریاتی اعلان نہیں کیا۔ بلکہ اسی اصول مساوات کی بنیاد پر ایک پورا سماج عملی طور پر قائم کر دیا۔ تاکہ ہر دور کے انسانوں کے لئے وہ نمونہ کا کام دے۔ قیامت تک کے تمام لوگ اس سے مساوات انسانی کا نظریاتی سبق بھی لیں، اور اسی کے ساتھ اس کے عملی نمونہ کو دیکھ کر اس کے قابل عمل ہونے کا یقین بھی حاصل کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page