Al-Risala · January 1996 · page 3

اجتہاد مطلق، اجتہاد مقید

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۳

صحیح البخاری (کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة) اور صحیح مسلم (کتاب الاقضیة) میں حضرت عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حاکم فیصلہ کرے اور وہ اجتہاد کرے، اور اس کا فیصلہ درست ہو تو اس کے لیے دو اجر ہے۔ اور جب وہ فیصلہ کرے اور وہ اجتہاد کرے پھر وہ غلطی کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے (إذا حكم الحاكم فاجتهد ثم اصاب فله أَجْرَانِ، - وإذا حكم فاجتهد، ثم اخطأ فله اجر)

ابن حجر العسقلانی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پہلے شخص کے لیے دو اجر ہے، کوشش کا اور درستگی کا۔ اور دوسرے شخص کے لیے صرف کوشش کا اجر ہے (فالاولي له اجران، اجر الاجتهاد واجر الاصابة والآخر له اجر الاجتهاد فقط) فتح الباری ۳۳۱/۱۳ اس سے معلوم ہوا کہ اجتہاد اسلام میں اتنا زیادہ مطلوب ہے کہ اس میں غلطی کرنے پر بھی ثواب رکھ دیا گیا ہے، بشرطیکہ اجتہاد کرنے والے کی نیت درست ہو۔ اس حدیث کے مطابق، اجتہاد کا عمل کسی حال میں روکا نہیں جائے گا، خواہ اس کے لیے رسک لینا پڑے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ چوتھی صدی، ہجری کے بعد لوگوں نے اس اندیشہ کی بنا پر اجتہاد کو ترک کر دیا کہ کہیں ہم سے غلطی نہ ہو جائے، جب کہ پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا تھا کہ غلطی کا اندیشہ ہو تب بھی تم اجتہاد کا عمل جاری رکھنا۔ اس کا سبب اجتہاد کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا نظام اجتہاد کے بغیر چل نہیں سکتا۔ جہاں اجتہاد نہیں ہوگا وہاں جمود ہوگا۔ اور ذہنی جمود در حقیقت ذہنی موت ہے جس کے بعد حقیقی ترقی کا کوئی امکان نہیں۔

اجتہاد مطلق، اجتہاد مقید

اجتہاد کیا ہے؟ ۔ لغت میں اجتہاد کے معنی ہیں انتہائی کوشش کرنا۔ اصول فقہ کی اصطلاح میں اس سے مراد وہ ممکنہ سعی و کوشش ہے جو کسی معاملہ میں شریعت کا حکم جاننے کے لیے صرف کی جائے (استفراغ الوسع في معرفة الحكم الشرعي في أمر معين)

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ قدیم ائمہ مجتہدین نے جو علمی میراث چھوڑی ہے وہ ہمیشہ کے لیے کافی ہے، اب کسی کو اجتہاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر محقق علماء نے ہمیشہ اس کے برعکس موقف اختیار کیا ہے۔ حتیٰ کہ خود وہ ائمہ بھی جن کے بعد اجتہاد کا دروازہ بند سمجھا

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page