Al-Risala · October 1996 · page 38

Are you moving.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۸

ایک ریفارمر تھے۔ امریکہ کے مسلمانوں نے اس کو خوب استعمال کیا۔ یہاں تک کہ بلیک مسلم اصلاح یا ہو کر بڑی تعداد میں عالمی مسلم امت کا جزو بن گئے۔

ٹھیک یہی معاملہ قادیانیت کا ہوا۔ ۱۸۸۹ء میں غلام احمد قادیانی نے اس کی تشکیل کی۔ اس کے بعد اس نے دعویٰ کر دیا کہ وہ خدا کا پیمیر ہے۔ مگر ۱۹۱۴ء میں اس کی وفات ہوگئی۔ اس کے بعد اس کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کو جانشین بنایا گیا۔ بیٹے نے اعلان کر دیا کہ اس کا باپ پیغمبر نہیں تھا۔ وہ صرف ریفارمر تھا۔ یہاں موقع تھا کہ دوبارہ بیٹے کو استعمال کرکے قادیانی فتنے کا خاتمہ کر دیا جائے۔ مگر عداوت کی نفسیات کی بنا پر یہاں کے مسلمان نہ اس راز کو سمجھ سکے اور نہ اس کو استعمال کر سکے۔ چنانچہ یہ امکان بالکل غیر استعمال شدہ رہ گیا۔ یہاں تک کہ شور و غل کی سیاست نے قادیانی فتنے کو وہاں پہنچادیا جہاں آج آپ اس کو دیکھ رہے ہیں۔

برطانیہ کے زمانہ قیام میں مسلسل لوگوں سے، خاص طور پر اہل علم سے ملاقاتیں ہوتی رہیں اور ان سے اسلام اور ملتِ اسلام کے مسائل پر تبادلہ خیال جاری رہا۔

ڈاکٹر خالد علوی یہاں ایک یونیورسٹی میں سینئر پروفیسر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ڈیڑھ سال پہلے ان کی ایک ملاقات برطانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی لیڈر والے ہرٹ لے (Roy Hertley) سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ برمنگھم میں کم از کم دو ایسے انتخابی حلقے ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر پارلیمنٹ کے انتخاب میں کبھی کوئی مسلم یہاں سے کامیاب ہوکر نہیں آتا نہ آپ لوگ مسلمانوں کو ٹکٹ دیتے ہیں۔ ہرٹ لے نے جواب دیا کہ جب ایک مسلمان مسلمان کی حیثیت سے منتخب ہوکر ایم پی بنے گا تو وہ برٹش پارلیمنٹ کے خاتمہ کا دن ہوگا :

When a Muslim on the basis of being Muslim is elected as M.P. that will be the end of British Parliament.:

پروفیسر اینڈرسن (Anderson) سے ڈاکٹر علوی کی بات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ لوگ مسلمانوں کے ساتھ خیریت برتتے ہیں، حالانکہ مسلمان مسیح کو پیغمبر سمجھتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں۔ اس کے برعکس یہود کو آپ اپنا سمجھتے ہیں حالانکہ انھوں نے مسیح کو سولی پر چڑھایا اور ان کو جھوٹا بتایا۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس کو ذہن میں رکئے کہ مسیح ایک یہودی تھے :

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page