Are you moving.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۷
فیصلہ بھی کر دیا جائے گا۔
ایک اور سوال یہ تھا کہ ۔ آپ نے کہا ہے کہ مشکل کو آسان سمجھنا چاہئے، کیوں کہ یہ نبی رسول اللہ کی سنت ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان ایک مشکل عمل ہے بقول بعض، پھر کیا ہم اس کو آسان سمجھیں اور اس کے لئے کوشش کریں تو یہ سنت رسول ہوگی۔
میں نے جواب دیا کہ جو بات میں نے کہی وہ یہ تھی کہ عسر میں یسر کو دیکھنا اور اس کو استعمال کرنا یہ بھی ایک سنت رسول ہے۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ یسر کے پہلو کو چھوڑ دیتے ہیں اور عصر سے اپنا سر ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے کشمیر کے مسئلہ کو دیکھئے تو آپ لوگوں نے سنت کے برعکس طریقہ اختیار کیا ہے۔ ۱۹۸۹ میں جب آپ نے موجودہ مسلح تحریک شروع کی کشمیر میں عسر کے ساتھ یسر پوری طرح موجود تھا۔ وہ یہ تھا کہ سیاسی شکایات کو نظر انداز کرتے ہوئے تعلیم، اقتصادیات اور دعوت جیسے میدانوں میں کشمیری قوم کی تعمیر و ترقی کے لئے پرامن کوشش کی جائے۔ مگر آپ لوگوں نے اس موقع کو استعمال نہیں کیا۔ اس کے بجائے آپ نے عسرت کی سیاسی چٹان سے سر ٹکرانا شروع کر دیا۔ یہ سنت رسول کے سراسر خلاف ہے۔
ایک سوال یہ تھا _ فتنہ قادیانیت ایک نئے روپ میں، برطانیہ میں خصوصاً پھیل رہا ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کی کوئی نصیحت ہو تو بتائیں کہ ہم اس فتنہ کا مقابلہ کس طرح کریں ۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس زمانہ میں ہندستان میں قادیانیت پیدا ہوئی اسی کے قریب زمانہ میں امریکہ کی بلیک مسلم تحریک بھی پیدا ہوئی۔ دونوں کا کیس بالکل ایک تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بلیک مسلم تحریک کا فتنہ جلدی ختم ہو گیا اور قادیانیت کا فتنہ دائمی تک باقی ہے اور بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ بلیک مسلم تحریک کے فتنہ کو خاموش تدبیر سے حل کیا گیا۔ جب کہ قادیانی فتنہ کو شور وغل کے ذریعہ ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور شور وغل سے کبھی کوئی چیز ختم نہیں ہوتی۔
بلیک مسلم تحریک الیا محمد (۱۹۷۵ء - ۱۸۹) نے شروع کی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں۔ چنانچہ ان کے تمام پیروان کو پیغمبر خدا مانتے تھے۔ مگر ۱۹۷۵ء میں ان کے انتقال کے بعد ان کا لڑکا وارث دین محمد ان کا جانشیں ہوا۔ بیٹے کا رجحان یہ تھا کہ ان کے والد پیغمبر نہیں تھے بلکہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues