I want to be defender of faith not the faith.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۰
جب ہٹلر نے آپ کے ملک پر حملہ کیا تو آپ نے مسیح کی تعلیم کے مطابق ایسا نہیں کیا کہ ایک گال پر مارے اس کو دوسرا گال بھی پیش کر دو بلکہ آپ نے اسلام کی تعلیم کے مطابق اس کی جارحیت کا دفاع کیا۔ اس مباحثہ کا ویڈیو ٹیپ اسلامک پروپینگیشن سنٹر انٹرنیشنل میں موجود تھا۔ اس کو میں نے وہی آ کر پر دیکھا۔
یورپ میں اور برطانیہ میں فلاحی ریاست (ویلفیر اسٹیٹ) کا بہت چرچا ہے۔ مگر اس کا تجربہ زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔ پورے یورپ میں سویڈن کو سب سے زیادہ کامیاب فلاحی ریاست سمجھا جاتا ہے۔ وہاں بچہ ابھی پیٹ میں ہوتا ہے کہ اس کا الاونس (maternity allowance) جاری ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد پیدائش سے لے کر موت تک ہر قسم کی ضرورتوں کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ مگر اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ خود کشی کی شرح سب سے زیادہ سویڈن میں پائی جاتی ہے۔
اس دنیا میں انسان کی اصل ضرورت راحت نہیں ہے بلکہ چیلنج ہے۔ راحت زندہ انسان کو مردہ بناتی ہے اور چیلنج مردہ انسان کو زندہ کر دیتا ہے۔
۱۳ اگست کی شام کو برسٹل میں پروگرام تھا۔ ساڑھے تین بجے برمنگھم سے روانگی ہوئی۔ دونوں شہروں کے درمیان بہت عمدہ چوڑی سڑک ہے جس کو یہاں کی زبان میں موٹر وے کہا جاتا ہے۔ سڑک کے دونوں طرف نہایت سرسبز ہٹلا ظہر دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ درمیان میں ایک جگہ ویلکم بریک (Welcome break) کے نام سے سڑک کے کنارے بہت کشادہ جگہ تھی۔ آنے جانے والے یہاں کار پارک کر کے ٹھہرتے ہیں۔ یہاں باتھ روم ، ٹیلیفون، ریسٹوران اور سروس وغیرہ کی سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔ ہر چیز اعلیٰ معیار پر نظر آئی۔
دو گھنٹہ سفر کر کے، ہم لوگ برسٹل میں داخل ہوئے۔ یہ شہر بہت خوبصورت دکھائی دیا۔ پہلے جناب امداد علی احمد صاحب کے مکان پر کچھ دیر کے لئے ٹھہرے ۔ یہاں کچھ لوگ موجود تھے جن سے گفتگو ہوتی رہی۔ برسٹل میں تقریباً چھ ہزار مسلمان ہیں۔ اور چار مسجدیں ہیں۔ مغرب کی نماز یہاں کی جامع مسجد میں پڑھی۔ یہ مسجد ایک گھر جا کو خرید کر بنائی گئی ہے اور نہایت خوبصورت ہے۔ مغرب کے نماز کے بعد خطاب ہوا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues