I want to be defender of faith not the faith.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۱
میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرب میں جو انقلاب لائے، اس میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں کو ملا کر کل ۱۰۲۰ لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد اتنی کم ہے کہ اس انقلاب کو غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کہا جا سکتا ہے۔ اس لئے غیر خونی انقلاب بھی رسول اللہ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان جگہ جگہ اسلام کے نام پر خونیں انقلاب لانے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ مگر اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا وقت تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ حضرت عمر ایک بار بائبل کا ایک حصہ لائے اور اس کو پڑھنے لگے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ پھر کیا مسلمانوں کے لئے بائبل کو پڑھنا جائز نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ وقتی بات تھی۔ جس زمانہ میں قرآن اتر رہا تھا، اس زمانہ میں حدیث کو بھی لکھنے سے منع کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ قرآن کے ساتھ کوئی دوسرا کلام خلط ملط نہ ہونے پائے۔ مگر جب قرآن مدون ہو گیا تو بعد کو علماء نے بڑے پیمانہ پر بائبل کا مطالعہ کیا اور اس کے بارے میں کتابیں لکھیں۔ مثلاً ابن تیمیہ کی کتاب الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح۔ آپین میں مسلمانوں نے بائبل پر اتنی مہارت پیدا کی کہ عیسائی لوگ مسلم علماء کے یہاں بائبل کا درس لینے کے لئے آتے تھے۔ وغیرہ برطانیہ کے زمانہ قیام میں میں نے یہاں کی مختلف مسجدوں میں نماز پڑھی۔ ہر جگہ میں نے دیکھا کہ لاؤڈ اسپیکر کے بغیر مسجد کے اندر اذان دی جاتی ہے۔ موذن مسجد کی چھت پر بھی اس کے لئے کھڑا نہیں ہوتا۔ موذن کی آواز صرف مسجد کے اندرونی حصہ میں سنائی دیتی ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ باہر کے ملکوں میں مسلمان کس طرح وہاں کے نظام سے موافقت کر کے رہتے ہیں۔
لندن کے اردو اخبار جنگ (۱۳ اگست ۱۹۹۴) میں صفحہ اول کے نیچے یہ خبر تھی کہ نسل پرست غنڈوں نے جرمنی میں ایک مسجد کو آگ لگا کر شہید کر دیا ہے۔ آگ جرمنی کے جنوب میں واقع منگن ہر مین لگائی گئی جس سے وہاں کی مسلم آبادی میں سخت تشویش پھیل گئی ہے۔ جرمنی میں نسل پرستوں کے حملوں میں گزشتہ دو سال میں تشویشناک اضافہ ہو گیا ہے۔ سٹ گارڈ پولیس نے ناپاک مسجد میں آگ لگانے کا واقعہ ایک نواحی قصبہ میں ایک اسلامی ثقافتی مرکز میں آتش زدی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues