میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۱
اردو کا مسئلہ غلط رول ماڈل کا مسئلہ ہے۔ انگریزی زبان میں نیوٹن سے پہلے شاعروں اور یوں کورول ماڈل کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کے بعد جب سائنس کا غلبہ ہوا تو سائنس داں رول بن گئے۔ اس طرح انگریزی زبان ادبی اسلوب کے دور سے نکل کر سائنسی اسلوب کے میں داخل ہوئی۔ اردو میں اس قسم کا انقلابی عمل پیش نہیں آیا۔ کچھ شاعر اور ادیب جو ایک ردو میں رول ماڈل کی حیثیت اختیار کر گئے تھے، سائنسی انقلاب جیسا کوئی واقعہ پیش نہ آنے ن پر، آج بھی وہی اشخاص لوگوں کا رول ماڈل بنے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال کو لے بغیر اردو کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔
تقریبا تین گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ہم لوگ سر دھنہ پہنچے جو کہ ضلع میرٹھ کا ایک قصبہ ہے۔ ب سے پہلے ہماری گاڑی تحصیل والی مسجد پر رکی۔ یہاں عصر کی نماز تیار تھی۔ چنانچہ یہاں عصر کی نماز وت کے ساتھ پڑھی گئی۔ یہ ایک چھوٹی مسجد ہے جو قصبہ کے بیرونی حصہ میں واقع ہے۔ پوچھنے پایا گیا کہ سر دھنہ میں ۳۶ مسجدیں ہیں۔
کسی نئی بستی میں داخل ہونے کا یہی اسلامی طریقہ ہے۔ اگر وقت ہو گیا ہو تو پہلے مسجد میں داخل مقامی مسلمانوں کے ساتھ با جماعت نماز ادا کی جائے۔ اور اگر نماز کا وقت نہیں ہے تو دو رکعت ٹ پڑھ کر اپنے لیے اور بستی والوں کے لیے دعا کریں، اس کے بعد بستی کے اندر جائیں۔ نماز عصر سے فراغت کے بعد ہم لوگ روانہ ہو کر جناب تسلیم احمد خان ایڈووکیٹ کی رہائش گاہ ، جہاں مجھے قیام کرنا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری پہلی ملاقات 1991 میں ہوئی تھی۔ اس وقت ، بار بار وہ مجھے سر دھنہ آنے کی دعوت دے رہے تھے۔ پانچ سال بعد اب اس کی تکمیل ہوئی۔ یہاں کئی لوگ جمع ہو گئے۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آج انسان پریشانی میں ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ میں خاموش تھا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب کہا : اس لیے کہ وہ پڑوسی کو سُکھی دیکھنا نہیں چاہتا۔
تسلیم احمد صاحب کے اندر ایک عجیب صفت ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں وہ مستقل طور پر یاد ہو جاتا ہے۔ سر دھنہ کے ہزاروں آدمیوں کے نام ان کو مع ولدیت کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues