میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۲
اس قسم کے حافظہ کو انگریزی میں فوٹو گرافک میموری کہا جاتا ہے۔ ایک صاحب سے یہ بار بات ہو رہی تھی۔ گفتگو کے دوران مولانا آزاد کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ ان کو فوٹو گرافک میموری حاصل تھی۔ انھوں نے میری تصحیح کرتے ہوئے کہا : فوٹو جینک میموری۔ انھوں نے انگلش لٹریچر سے فرسٹ کلاس ایم اے کیا تھا۔ وہ سمجھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہی صحیح ہے میں خاموش رہا۔ چند دن کے بعد انھوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ تصویری حافظہ کے لیے فوٹو جینک کا لفظ نہیں ہے۔ اس کے لیے فوٹو گرافک میموری ہی ہے، جیسا کہ آپ نے کہا تھا۔
انگریزی داں طبقہ میں اس طرح کا اعتراف عام ہے۔ لیکن عربی داں طبقہ میں یہ اعتراف اتنا کم ہے کہ کم از کم میں نے ابھی تک اس کا تجربہ نہیں کیا۔
تسلیم احمد خان ایڈووکیٹ کی یاد داشت ایسی ہے کہ ملاقات ہوتے ہی انھوں نے کمپیوٹر کی طرح ہر بات تاریخ وار بتانا شروع کر دیا — ۱۹۸۷ سے میں مسلسل الرسالہ کا قاری ہوں آپ سے میری پہلی ملاقات ۵ مئی ۱۹۹۱ کو دہلی میں ہوئی تھی۔ دوسری ملاقات پونہ میں ۳ اکتوبر ۱۹۹۲ کو ہوئی۔ تیسری ملاقات ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ کو دہلی میں ہوئی۔ اس ملاقات میں آپ نے سردھنہ کے لیے ۱۱ نومبر ۱۹۹۹ کی تاریخ مقرر کر دی تھی ۔ مگر چند دن بعد آپ کا خط آگیا کہ آپ اس تاریخ پ کو نہ آسکیں گے۔
انھوں نے اور بھی کئی باتیں یاد دلائیں۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ پونہ کی مجلس میں آپ سے سوال کیا گیا تھا کہ لاتور کے علاقہ میں جو زلزلہ آیا ہے، کیا وہ عذاب الہی ہے۔ اس کے جواب میں آپ نے کہا کہ وہ عذاب نہیں ہے بلکہ تنبیہہ ہے۔ شرعی اصطلاح میں عذاب آنے کے لیے اہل حق کی ہجرت شرط ہے۔ مشترک آبادی میں کبھی عذاب متأصل نہیں آتا۔
مغرب کی نماز قریب کی مسجد میں پڑھی گئی۔ اس کا نام مسجد کره نوابان ہے۔ بوڑھے امام صا نے یہ آیت تلاوت کی : والسماء بنيناها بأيد وانا لموسعون (الذاريات (۴۷) اس آیت میں پھیلتی ہوئی کائنات کی فلکیاتی حقیقت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے (تذکیر القرآن ۳۰/۲-۶۲۹) تاہم اس میں ایک بالواسطہ اشارہ اس طرف بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو توسیع پسند ہے نہ کہ جمود۔ مگر اس توسیع سے مراد سیاسی یا جغرافی توسیع نہیں، ہے بلکہ فکری توسیع
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues