میرٹھ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۵
تبصرہ کیا۔ میں نے کہا کہ محض ارد اخبارات پڑھ کر عالمی سیاست کے بارہ میں اس طرح کی رائے قائم کرنا درست نہیں، کیوں کہ اردو اخبارات نہایت ناقص ہیں۔ محدود و اقتصادی ذرائع کی بنا پر وہ زیادہ لائق افراد کو اپنے ادارہ کے لیے حاصل نہیں کر پاتے۔ تمام اردو اخبارات میں تیسرے درجہ کے کارکن بھرے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام اردو اخبارات ناقص خبر رسانی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ اس کی ایک دل چسپ مثال یہ ہے کہ ابھی چند دن پہلے دہلی کے سب سے بڑے اردو اخبار کے شمارہ ۴ اپریل میں ایک ہوائی جہاز کی تصویر چھپی۔ اس کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ برطانیہ میں بنائے گئے اس جہاز کی پرواز سات سال بعد شروع ہوگی۔ میں حیران ہوا کہ جب جہاز بن کر تیار ہو چکا ہے تو آخر وہ اتنی زیادہ دیر کے بعد کیوں اپنی پرواز شروع کرے گا۔ اس کے بعد یہی خبر جب ٹائمس آف انڈیا میں دیکھی تو اصل حقیقت معلوم ہوئی ۔ اگلے صفحہ پر دونوں اخباروں کی تصویر مع کیپشن نقل کی جا رہی ہے۔
ایک مجلس میں مدارس کے طرز تعلیم کے بارہ میں گفتگو ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ مفسر طنطاوی جوهری (۱۳۵۸ - ۱۲۸۷ھ) نے لکھا ہے کہ قرآن میں فقہی نوعیت کے مسائل کے بارہ میں صرف ۱۵۰ آیتیں ہیں۔ جب کہ کائنات میں غور وفکر کے بارہ میں ۷۵۰ آیتیں ہیں۔ اس لحاظ سے دینی تعلیم کے مدارس میں علوم کائنات کا غلبہ ہونا چاہیے ۔ مگر موجودہ مدارس میں علوم کائنات سرے سے پڑھائے ہی نہیں جاتے ۔ جب کہ فقہی مسائل کا یہ حال ہے کہ وہی پورے تعلیمی نظام پر غالب آ گئے ہیں۔ حتی کہ اس میں قرآن و حدیث کو بھی فقہ کے تابع کر دیا گیا ہے۔
ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ ایک شخص پیسہ کما کر شاندار گھر بنائے تو وہ اس کے اوپر لکھ دیتا ہے کہ ھذا من فضل ربی۔ مگر یہ قرآنی آیت کا ادھورا استعمال ہے۔ اگر کوئی لکھے تو اس کو پوری آیت لکھنا چاہیے۔ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا کلمہ ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو غیر معمولی اقتدار عطا فرمایا تھا، اس پر آپ نے کہا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے جانچے کہ میں شکر کرتا ہوں یا میں ناشکری کرتا ہوں (النمل (۴۰) اس سے معلوم ہوا کہ دنیوی نعمت حقیقتاً فضل کے لیے نہیں ہوتی بلکہ وہ ابتلاء (آزمائش)
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues