Al-Risala · November 1996 · page 14

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۴

درخواست کریں کہ وہ مولانا یوسف سے یہ بات کہہ دیں۔

یہ خبر تبلیغی مرکز میں پہنچ گئی۔ یہاں مشورہ ہوا کہ کیا کرنا چاہیے۔ ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ مولانا یوسف صاحب تبلیغی سفر پر باہر چلے جائیں تاکہ مولانا حسین احمد مدنی صاحب سے ان کی ملاقات ہی نہ ہو سکے۔ مولانا یوسف صاحب نے کہا کہ اس کے بجائے کیوں نہ ہم لوگ مل کر دعا کریں کہ اللہ ہمیں اس آزمائش سے بچا لے ۔ اس کے مطابق لوگ دعا میں مشغول ہو گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس کا وفد جب دیوبند جاکر مولانا حسین احمد مدنی سے ملا اور مذکورہ درخواست کی تو انھوں نے وفد کو یہ جواب دے دیا : بھائی، مولوی یوسف ایک کام میں لگے ہوئے ہیں، ہم کیوں ان کے کام میں خلل ڈالیں۔

دعا مخصوص اوقات میں کچھ یاد کیے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں، دعا ایک عمل اور ایک طریق زندگی ہے۔ دعا بجائے خود ایک تدبیر ہے۔ آدمی جب کسی معاملہ میں دعا کرتا ہے تو اس طرح وہ اپنے اس یقین کو پختہ کرتا ہے کہ اس دنیا کا اصل مالک خدا ہے۔ یہاں جو کچھ ہوگا اسی کے اذن سے ہوگا۔ اس کے اذن کے بغیر یہاں کچھ ہونے والا نہیں۔ دعا ایک پکار ہے جو اس لیے ہوتی ہے کہ بندہ کے عجز کی تلافی کے لیے اس کا خدا اس کی حمایت پر آجائے۔

اسی کے ساتھ یہ کہ آدمی جب اپنے کسی معاملہ میں دعا کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک نیا انسان بناتا ہے۔ وہ اپنی نفسیات کو مثبت سمت میں متحرک کرتا ہے۔ وہ اپنی سوچ کو خارج رخی سوچ بنانے کے بجائے اس کو داخل رخی سوچ بناتا ہے۔ اس طرح دعا آدمی کی اندرونی قوتوں کو جگا کر اس کو پہلے سے زیادہ طاقت ور انسان بنا دیتی ہے۔ زیادہ عمر کے ایک صاحب نے بتایا کہ میں اپنی ماں کا ایک ہی لڑکا تھا۔ وہ میرے لیے دعا کیا کرتی تھیں کہ یا اللہ، تو میرے بیٹے کو دولت دینا تو پہلے اس کے استعمال کا سلیقہ دینا۔ میں نے کہا کہ یہ پہلے زمانہ کی ماؤں کا طریقہ تھا۔ آج کے ماں باپ کا حال یہ ہے کہ وہ اتنا ہی جانتے ہیں کہ ان کا بیٹا خوب دولت کمائے۔ اس کے سوا کسی اور چیز کے بارہ میں نہ انھیں کوئی خبر ہے اور نہ کوئی تڑپ۔

ایک صاحب نے بعض اردو اخبارات کے حوالہ سے عالمی سیاست پر ایک تیز وتند

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page