The Sun is classified as a dwarf star.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۵
کی بابت گفتگو کی۔ بظاہر یہ سمجھ میں آیا کہ اس کا سبب عمومی اختلاط ہے۔ سردھنہ کی آبادی ٦٠ ہزار ہے۔ اس میں تقریباً نصف ہندو اور نصف مسلمان ہیں۔ یہاں کے کاروبار کی نوعیت ایسی ہے کہ بار بار دونوں فرقہ کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے رہتے ہیں۔ اس طرح تقریباً سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں، یہی سماجی اور کاروباری میل ملاپ اس فرق کا اصل سبب ہے۔
میں نے کہا کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اختلاط مانع فساد ہے۔ اگر صرف اتنا ہو جائے کہ دونوں فرقوں کا اختلاط بڑھ جائے تو فساد کے اسباب اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ ۱۹۸۷ میں میرٹھ میں بہت بڑا فساد ہوا۔ اس کے بعد سردھنہ میں کسی نے شرارت کی اور مسجد میں خنزیر کا گوشت ڈال دیا۔ اس طرح کے کچھ واقعات کیے گئے تاکہ سردھنہ میں بھی فساد برپا ہو جائے ۔ مگر یہاں کے لوگ ٹھنڈے مزاج کے ہیں۔ وہ اشتعال نہیں ہوئے۔ اس کے بعد ہندو اور مسلمانوں کے بڑے لوگ اکٹھا ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ جو ہو چکا وہ ہو چکا، اب اس کو آگے بڑھنے نہیں دینا ہے۔ چنانچہ یہ چنگاری آغاز ہی میں بجھ گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرٹھ میں سخت نقصان ہوا۔ مگر سردھنہ میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ یہاں کے مسلمان آج ترقی کر رہے ہیں بزنس اور تعلیم دونوں میدانوں میں وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔
ایک صاحب نے بتایا کہ ۱۹۸۷ میں میرٹھ فساد کے موقع پر سردھنہ کے تین مسلمانوں کو قریب کے گاؤں کساولی میں مار ڈالا گیا جب کہ وہاں باغ کی رکھوالی کر رہے تھے۔ مگر سردھنہ کے مسلمان اس پر مشتعل نہیں ہوئے۔ اس طرح ایک طرف مجرمین کو قانونی سزا ملی اور دوسری طرف سردھنہ فساد کی مصیبت سے بچ گیا۔
۱۲ اپریل کی صبح کو شیخ محمد حنیف ملتانی (۵۱ سال) کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ غیر رسمی انداز میں دیر تک لوگوں سے گفتگو ہوتی رہی۔ سردھنہ میں ہندو اور مسلمان دونوں زیادہ تر بزنس کے میدان میں ہیں۔ تاہم ایک صاحب کے الفاظ میں "مسلمان تو زیادہ ترمز دوری کرتے ہیں، ہندو بزنس میں ہم سے بہت آگے ہیں"۔ میں نے سبب پوچھا تو ایک صاحب نے کہا: میں تو سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب صرف علم کی کمی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues