Sardhana: The Begum's Haven
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۶
ایک صاحب سے اس پر گفتگو ہوئی کہ کافر کون ہے۔ میں نے کہا کہ کافر کسی نسلی گروہ کا نام نہیں۔ یہ ایک انفرادی رویہ ہے۔ کافر کے معنی منکر کے ہیں۔ اس سے مراد وہ انسان ہے جو اتمام حجت کے باوجود حق کا انکار کرتا رہے یہاں تک کہ انکار ہی کی حالت میں اُس کا خاتمہ ہو جائے۔
قرآن (البقرۃ (۱۶۱) میں ہے کہ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ کافر ہی مر گئے تو وہی وہ لوگ ہیں کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے (ان الذین کفروا وماتوا وهم كفار اولئك عليهم لعنة الله الخ)
اس سے معلوم ہوا کہ کافر یا منکر وہ شخص ہے جو موت کے آخری وقت تک کا فرنہ رہے۔ اب چوں کہ کوئی انسان کسی کے بارہ میں یہ جان نہیں سکتا کہ اس کا خاتمہ آخر کار کس چیز پر ہوا ہے، یہ وہ چیز ہے جو صرف خدا کو معلوم ہے۔ اس لیے، ہمیں یہ حق نہیں کہ پیشگی طور پر ہم کسی کو کافر قرار دے دیں۔ ہمیں دوسروں کو صرف غیر مسلم کہنا ہے۔ یا انسان یا برادران قوم جیسے الفاظ سے انہیں خطاب کرنا ہے۔ اور اس معاملہ کو خدا کے حوالے کر دینا ہے کہ آخری طور پر اس کی موت کس حال میں ہوئی۔ کافر وہ ہے جو خدا کے نزدیک کا فرار پائے نہ کہ انسانوں کے نزدیک۔
سردھنہ کا تعارف سب سے پہلے مجھے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے شمارہ ۲۳ جنوری ۱۹۸۸ کے ذریعہ ہوا۔ اس میں مسرٹ شوچی بنسل (Shuchi Bansal) کے قلم سے ایک با تصویر مضمون شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا سر دھنہ، بیگم کا من :
Sardhana: The Begum's Haven
اسی وقت سے یہ خواہش تھی کہ سردھنہ کو دیکھا جائے ۔ مگر ہر کام اپنے مقررہ وقت پر ہوتا ہے۔ چنانچہ آٹھ سال کے بعد یہ وقت آیا اور میں سردھنہ کو دیکھنے کی خواہش پوری کر سکا۔ سردھنہ ریلوے لائن پر نہ ہونے کی وجہ سے اگر چہ انڈیا کے سیاحتی نقشہ (ٹورسٹ میپ) پر نہیں ہے۔ تاہم اس کی ایک تاریخی اہمیت ہے۔ پورے ہندوستان سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں عیسائی حضرات اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ اس کے بارہ میں اخباروں میں رپورٹیں بھی چھپتی رہتی ہیں۔ مذکورہ انڈین ایکسپریس کے علاوہ دہلی کے ہفت روزہ انڈین کرنٹلس
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues