Al-Risala · November 1996 · page 29

In the land of Begum Samru

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۹

دوسرے سے۔ مگر کتاب میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ بیگم سمرو اپنے فرانسیسی شوہروں سے بات کس زبان میں کرتی تھی۔ آیا اس کے شوہروں نے اردو یا فارسی سیکھ لی تھی یا خود بیگم نے فرانسیسی زبان میں بقدر ضرورت واقفیت حاصل کرلی تھی۔ بیرونی شخصیتوں سے تو وہ ترجمان کے ذریعہ بات کرسکتی تھی۔ مگر اپنے شوہر سے بات کرنے کے لیے تو ضروری ہے کہ دونوں براہ راست گفتگو کرسکیں۔ مگر اس سوال کا جواب مذکورہ کتاب میں موجود نہیں۔

چرچ کے گیٹ پر لکھا ہوا تھا: (St. Mary's Church) یہ بلند و بالا چرچ بیگم سمرو نے اٹلی کے معماروں کے ذریعہ بنوایا تھا۔ ہم لوگ اندر داخل ہو کر دیکھنے لگے۔ اس وقت چرچ کے اندر سروس (مسیحی عبادت) ہورہی تھی۔ مگر اس میں اتنے کم آدمی تھے کہ وسیع چرچ کے اندروہ ہمیں دکھائی نہیں دیے۔ مقامی مسیحی گائیڈ جو ہمارے ساتھ تھا، اس نے بھی کچھ نہیں بتایا۔ ہمارے بعض ساتھی آپس میں بولنے لگے۔ ان کی آواز گونج کی وجہ سے زور زور سنائی دینے لگی، تاہم میں حسب عادت بالکل خاموش تھا اور کچھ بھی بولے بغیر چپ چاپ ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ آواز سن کر ایک بھاری بھرکم خاتون اندر سے نکلی۔ اس نے غصے کے انداز میں کہنا شروع کیا کہ یہاں سروس ہو رہی ہے اور یہ پتہ نہیں کون لوگ ہیں جو اس طرح یہاں آکر زور زور سے بول رہے ہیں۔ میں دوبارہ حسب عادت کچھ بھی جواب دیے بغیر باہر آگیا۔ اتنے میں گائڈ اندر

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page