In the land of Begum Samru
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۸
کے آخر میں دہلی کی برائے نام سلطنت پر شاہ عالم ثانی تخت نشین تھا۔ اس زمانہ میں دہلی میں بغاوت ہو گئی ۔ شاہ عالم کو دہلی سے بھاگنا پڑا۔ اس بغاوت کا سردار زبہ نہ خان تھا ۔ شاہ عالم نے بغاوت کو فرو کرنے کے لیے والٹرین ہارٹ کی خدمات حاصل کیں۔ وہ ایک فوجی ماہر تھا، وہ بغاوت کو فرو کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ اس کے بعد شاہ عالم ثانی نے والٹرین ہارٹ کو مظفر نگر سے علی گڑھ تک کا علاقہ جاگیر میں دے دیا۔
۱۷۷۸ء میں والٹرین ہارٹ کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت بیگم سمرو اس کے نکاح میں آ چکی تھیں۔ مگر ابھی تک انھوں نے عیسائیت قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ شاہ عالم ثانی نے بیگم سمرو کو وارث کے طور پر مان لیا۔ اس طرح بیگم سمرو مذکورہ ریاست کی حاکم بن گئیں جس کی راجدھانی سردھنہ تھی۔ والٹرین ہارٹ کے انتقال کے تین سال بعد، مئی ۱۷۸۱ء کو بیگم سمرو نے مذہب تبدیل کرکے باقاعدہ عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔
اس زمانہ میں بیگم سمرو کی فوج میں ایک یورپی افسر جارج ٹامس (George Thomas) تھا۔ اس کو بیگم سے دل چسپی ہو گئی۔ وہ بیگم سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔ مگر بیگم نے انکار کیا۔ اس کے بجاے انھوں نے ایک اور فرانسیسی فوجی افسر لاویسیا (Le Vaisseau) سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد بیگم سمرو کے مصیبت کے دن شروع ہوتے ہیں۔ بیگم سمرو کے سوتیلے لڑکے ظفر یاب خان نے جارج ٹامس کو ساتھ لے کر بغاوت کر دی۔ بیگم کو سردھنہ چھوڑ کر بھاگ جانا پڑا۔ اس سلسلہ میں بہت لمبی کہانی ہے جس کے ذکر کا یہاں موقع نہیں۔
۶۵ ایکڑ کے رقبہ میں یہاں جو مسیحی دنیا ہے اور جس میں چرچ وغیرہ شامل ہیں وہ سب انھیں بیگم سمرو کی بنوائی ہوئی ہیں۔ بیگم نے اسپتال کے نام سے ایک رقم چھوڑی تھی چنانچہ ان کے بعد یہاں ایک اسپتال بنایا گیا جو اب تک قائم ہے۔ یہ اسپتال ۱۸۰۱ء میں تیار ہوا تھا۔ اس مسیحی احاطہ کے اندر چرچ کے بعد جو سب سے بڑی اور شاندار عمارت ہے وہ بیگم سمرو کا محل ہے۔ اب وہ ایک انٹر کالج کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ بیگم سمرو کی قدیم رہائش گاہ میں ایک پرائمری اسکول قائم ہے۔ اس کی ایک جھلک اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں۔ بیگم سمرو کا تعلق اپنے پہلے فرانسیسی شوہر والٹرین ہارٹ سے ۱۷۶۵ء میں ہوا تھا۔ پھپھ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues