We all are children of one Father.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۱
کی تعارف کراتی رہیں۔ آخر میں میں نے کہا کہ سسٹر، آپ کا شکریہ (Thank you, Sister) اس نے جواب میں کہا کہ ہم سب ایک باپ کی اولاد ہیں :
We all are children of one Father.
میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ ان لوگوں کے اندر آپ نے جو اخلاق دیکھا اس کا راز کیا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اس کا راز صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے ۔ مشنری اسپرٹ ۔ چرچ کے بڑے پادری (Fr. John Monteiro) کی طرف سے انگریزی میں ۸۰ صفحہ کا ایک کتابچہ ہمیں دیا گیا جس میں اس مسیحی سنٹر کے بارہ میں تاریخی تفصیلات درج تھیں ۔ ۸۰ صفحہ کے کتابچہ میں بہت سی تفصیلات ہیں۔ مگر اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بیگم فرزانہ جب ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئی تھی تو اس نے کیوں مسیحیت قبول کر لیا ۔ کتابچہ سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ فادر گر گیگوری (Fr Gregory) ایک پرجوش مشنری (zealous missionary) تھے۔ وہ اٹلی میں ۲۲ نومبر ۱۷۳۴ ء کو پیدا ہوئے ۔ اس کے بعد وہ آگرہ آئے ۔ یہاں غالباً انھوں نے ہندستانی زبان سیکھی۔ اس کے بعد وہ سر دھنہ منتقل ہوئے ۔ ۷ مئی ۱۷۸۱ء کو انھوں نے بیگم فرزانہ کو مسیحیت میں داخل کیا۔ ان کا نیا نام یوحانہ سمرو (Yohanna Sumru) رکھا گیا۔ فادر گر گیگوری کا انتقال دہلی میں ۲۹ مئی ۱۸۰۳ء کو ہوا۔ دہلی میں رہتک روڈ پر اب بھی ان کی قبر موجود ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے علما ء میں سے کسی نے بیگم سمرو سے رابطہ قائم نہیں کیا۔ وہ ہندستانی زبان کے علاوہ فارسی زبان اچھی جانتی تھی۔ اس بنا ء پر علما ء اس سے بہت اچھی طرح گفتگو کر سکتے تھے۔ مگر غالباً کسی عالم کو اس طرف توجہ نہیں ہوئی۔ اس طرح مسیحی پادری کو یک طرفہ طور پر یہ موقع مل گیا کہ وہ خاتون پر کوشش کرے اور اس کو بیگم فرزانہ سے بیگم یوحانہ بنا دے۔
مذکورہ کتاب میں یہ درج ہے کہ اس میں شک نہیں کہ اس سفید پوش اطالوی راہب کو بیگم کی تبدیلی مذہب کے لیے بہت کچھ کرنا پڑا ہوگا۔ اس نے بیگم کو اور اس کے سوتیلے لڑکے (ظفر یاب خان) کو آگرہ کے قدیم اکبر چرچ میں ۱۷۸۱ء میں بپتسمہ دیا۔ بارہ سال بعد اسی نے بیگم کا نکاح ایک فرانسیسی افسر سے کیا :
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues