Al-Risala · November 1996 · page 32

We all are children of one Father.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۲

Undoubtedly this Italian Carmelite must have had a lot to do with the begum's conversion. He baptised her in the old Akbar Church of Agra along with Sumru's son in 1781. 12 years later he blessed her marriage with the Frenchman, Le Vaisseau. (p. 64) یہ مغل حکمران شاہ عالم ثانی کا زمانہ تھا جس نے دہلی سلطنت پر ۱۷۵۹ء سے لے کر ۱۸۰۶ء تک حکومت کی۔ خود بیگم سمرو کی جاگیر یا ریاست اسی سلطنت دہلی کے ماتحت تھی۔ اس اعتبار سے مسلم علماء کے لیے اس معاملے میں دخل دینے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ مگر عجیب بات ہے کہ تبدیلی مذہب کا اتنا بڑا واقعہ ہوا جس کا تعلق سردھنہ سے لے کر آگرہ تک سے تھا، اور جس کی تکمیل میں کئی سال لگے۔ لیکن اس مدت میں کوئی ایسا عالم سامنے نہیں آیا جو بیگم سمرو سے ملاقات کر کے اس کو اسلام کی اہمیت بتائے۔ بیگم سمرو صرف اردو اور فارسی زبان جانتی تھی مگر فرینچ اور انگریزی کے علماء سے تو اس کا ربط قائم ہوا، لیکن اردو اور فارسی کے علماء سے اس کا ربط قائم نہ ہوسکا۔

یہ وہ وقت ہے جب کہ دہلی میں شاہ عبدالعزیز صاحب (۱۸۲۳-۱۷۶۲) موجود تھے انھوں نے ۱۸۰۶ء میں فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہ علماء حرب" کے معاملے میں تو ضرورت سے زیادہ باخبر تھے، مگر "دعوت" کے معاملے میں وہ کسی باخبری کا ثبوت نہ دے سکے۔ ورنہ شاید آج سردھنہ کی تاریخ دوسری ہوتی۔

عین اسی زمانہ کا ایک اور ملتا جلتا قصہ ہے۔ ایک فرانسیسی ماہر حرب بوائے (Benoit de Boigne) ہندوستان آیا تھا۔ وہ ۱۷۵۱ء میں چھیبری (Chambery) میں پیدا ہوا۔ ۱۸۳۰ء میں اس کی وفات ہوئی۔ ہندوستان میں وہ گوالیار کے راجہ مادھوجی سندھیا کی فوج میں افسر مقرر ہوا۔ جہاں وہ ۱۷۸۴ء سے ۱۷۹۶ء تک رہا۔

بوائے نے شاہ عالم دوم کے ایک ایرانی افسر کی لڑکی سے شادی کی۔ اس سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام علی بخش تھا۔ علی گڑھ میں موجودہ مسلم یونیورسٹی جس زمین پر قائم ہے وہ پہلے اسی فرانسیسی مہم باز (French Adventurer) کی ملکیت تھی۔ ۱۸ سال ہندوستان میں رہ کر ۱۸۱۲ میں جب وہ فرانس واپس چلا گیا تو اس کے بعد یہ زمین کچھ اور لوگوں کو ملی۔ یہاں تک کہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page