Al-Risala · November 1996 · page 34

We all are children of one Father.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۴

عہدے دار تیار کیے جائیں جو چرچ کے نظام کو سنبھال سکیں۔

سردھنہ کا یہ مسیحی مرکز (کیتھولک مشن) تقریباً ۵۷ ایکڑ رقبہ میں قائم ہے۔ کتا بچہ میں بتا یا گیا تھا کہ بیگم سمرو کے انتقال کے بعد ان کی اسٹیٹ حکومت برطانیہ نے اپنے قبضہ میں لے لی۔ مذکورہ مذکورہ ۶۵ ایکڑ کا علاقہ بیگم کی ذاتی ملکیت تھا، چنانچہ وہ محفوظ رہا۔ اس کے بعد وہ مختلف مراحل سے گزرا۔ یہاں تک کہ ۱۸۹۰ء میں آگرہ کے آرچ بشپ نے اس کو ۲۵ ہزار روپے میں خرید لیا۔

سردھنہ کے اس مسیحی مشن کا آرکیٹکٹ ایک اطالوی میجر ایتھونی (Major Anthony Reghelini تھا۔ وہ یہاں کئی سال تک مقیم رہا۔ اس کا رہائشی مکان اب بھی یہاں موجود ہے جو ایتھونی کی کوٹھی کے نام سے مشہور ہے۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد، اب یہ عمارت بچوں کے اسکول کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ کیتھولک مشن کی طرف سے مجھ کو جو تعارفی کتاب دی گئی اس کا نام تھا : Sardhana: its Begum, its Shrine, its Basilica ۸۰ صفحہ کی اس کتاب کو پڑھنے کے بعد مجھ کو سب سے زیادہ جس بات پر حیرت ہوئی یہ کہ اس مشن کی تاریخ دو سو سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس مدت میں اس کے ساتھ طرح طرح کے نشیب و فراز پیش آئے۔ ملک کے سیاسی حالات میں بھی انقلابی تبدیلیاں ہوئیں ۔ سردھنہ اور آگرہ سے لے کر اٹلی اور فرانس تک کے مختلف لوگ اس سے وابستہ رہے ۔ حتی کہ خود بیگم سمرو کو خود کشی کا اقدام کرنا پڑا، اگر چہ وہ بچ گئی۔ وغیرہ وغیرہ۔

طرح طرح کے اونچ نیچے پیش آنے کے باوجود ادارہ نہ ٹوٹا اور نہ تقسیم ہوا۔ اور نہ اپنے مقصد کے اعتبار سے اس میں کوئی خلل واقع ہوا۔ وہ بدستور ترقی کے راستہ پر چلا جا رہا ہے۔ یہی ساری دنیا کے ہزاروں مسیحی اداروں کا حال ہے۔ میں نے خود کئی ایسے ادارے دیکھے ہیں جو سیکڑوں سال سے پرسکون طور پر چلے جا رہے ہیں۔ جب کہ مسلم دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ادارہ ہو جو اس طرح تسلسل کے ساتھ چلا جا رہا ہو۔

یہ فرق روایات کی وجہ سے ہے۔ مسیحی قوموں میں روایات کا انتہائی احترام پایا جاتا ہے کسی روایت کو توڑنے والے ہمیشہ بڑے لوگ ہوتے ہیں۔ مگر مسیحی لوگوں کی اطاعت کیشی کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page