Al-Risala · November 1996 · page 35

We all are children of one Father.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۵

یہ حال ہے کہ ان کا کوئی بڑا آدمی کبھی کسی روایت کو نہیں توڑتا۔ وہ اپنے آپ کو روایت کے تابع رکھتا ہے، نہ کہ روایت کو اپنا تابع بنانے لگے۔ اور تاریخ کا تجربہ ہے کہ زندگی کا نظام ہمیشہ روایات کے تحت چلتا ہے۔ جس سماج میں روایات توڑ دی جائیں وہاں کوئی قانون یا کوئی حکومتی اقتدار اس کا بدل نہیں بن سکتا۔

پیغمبرِ اسلامؐ کے لائے ہوئے انقلاب میں اس حقیقت کا مکمل شعور پایا جاتا ہے (ملاحظہ ہو احیاءِ اسلام، صفحہ ۶۰ - ۶۳) مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کو اس کا مطلق شعور نہ تھا۔ چنانچہ ہر مسلم لیڈر جوش جہاد میں روایتوں کو توڑتا رہا۔ مثال کے طور پر اورنگ زیب عالم گیر نے انتہائی بے دردی کے ساتھ اپنے زمانہ کی تمام قیمتی روایات کو توڑ ڈالا۔ اس وقت سے آج تک مسلمان ایک ایسی قوم بنے ہوئے ہیں جن کے درمیان کوئی روایت ہی نہ ہو۔ جب کہ روایت کی اہمیت کا یہ حال ہے کہ اس کو توڑنا آسان ہے۔ لیکن دوبارہ روایت قائم کرنا ہو تو اس کے لیے ایک پوری تاریخ کا عمل درکار ہوتا ہے : It requires a lot of history to make a little tradition. میں نے معلوم کیا کہ سر دھنہ میں کیا ان لوگوں کی کوشش سے کچھ مسلمانوں نے عیسائیت قبول کیا ہے ۔ مجھے بتایا گیا کہ یہاں صرف ایک خاندان ہے جس کے چھ افراد عیسائی ہو گئے تھے۔ ان کے سوا کسی اور مسلمان نے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا۔

یہی صورت حال ساری دنیا میں ہے۔ دوسرے مذاہب کے لوگ بہت بڑے بڑے پیمانہ پر اپنا تبلیغی عمل جاری کیے ہوئے ہیں۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان اپنا مذہب تبدیل کرلے ۔ دوسری طرف دیگر مذاہب کے لوگ ساری دنیا میں ہر روز بڑی تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اسلام دین محفوظ ہونے کی وجہ سے فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔ جب کہ دوسرے مذاہب نے تحریف کی بنا پر فطرت سے اپنی مطابقت کھودی ہے ۔

سر دھنہ میں، میرے خیال سے زیادہ بڑی کمی تعلیم کی ہے۔ یہاں مسلمانوں کا کوئی قابل ذکر اسکول یا مدرسہ نہیں۔ تاہم مولانا محمد رضوان قاسمی تعلیم کے میدان میں سرگرمی دکھا رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page