Al-Risala · November 1996 · page 40

We all are children of one Father.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۰

کے مسلمانوں کو نوازا اور شمال کے مسلمانوں کو انھوں نے سزائیں دیں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں جو قومیں مسلمانوں کے اوپر غالب آئیں یا آج غالب ہیں ، ان سب کے بارہ میں ہمارا لکھنے اور بولنے والا طبقہ سوال سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اسلام دشمن لوگ ہیں اور سازش کے تحت انھوں نے غلبہ حاصل کیا ہے مگر یہ تصور لغویت کی حد تک غلط ہے۔

خدا کی اس دنیا میں کوئی گروہ محض دشمنی اور سازش کے ذریعہ سے کسی کے اوپر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا۔ غلبہ کے لیے خدا کا قانون واضح ہے۔ اور وہ قانون یہ ہے کہ جس گروہ میں انسانی اوصاف زیادہ ہوں گے وہی گروہ یہاں غلبہ اور اقتدار حاصل کرے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ غالب قوموں کے اندر انسانی اوصاف مسلم قوموں سے زیادہ تھے ، اسی لیے وہ ان کے اوپر غالب آئے۔ اس کا ایک سادہ ثبوت یہ ہے کہ جن ملکوں کو مسلم قائدین اپنے اعلان کے مطابق ، دشمنِ اسلام قرار دیے ہوئے ہیں، خود ان کے بیٹے اور پوتے پہلی فرصت میں بھاگ کر انھیں ملکوں میں جاتے ہیں تاکہ وہاں شتل ہوسکیں۔

سر دھنہ میں مجھے ایک مسلمان کے گھر میں دعا کے لیے لے جایا گیا۔ صاحبِ خانہ حال میں چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اب گھر میں ان کی بیوہ اور تین چھوٹے بچے ہیں۔ مرحوم نے اپنے بعد جائیداد اور مکان وغیرہ چھوڑا ہے۔ اب کچھ لوگ ظالمانہ طور پر ان جائیدادوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے بیوہ کے اوپر فرضی مقدمات قائم کیے ہیں اور طرح طرح سے ان کو پریشان کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ بیوہ کے وکیل صاحب گھر آکر یہ کہنے لگے ہیں کہ تم دوسرا وکیل کر لو۔ کیوں کہ وہ لوگ میری جان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے ہر روز ہند و ظلم پر لکھتے اور بولتے ہیں۔ لیکن اگر مسلم آبادیوں کا جائزہ لیا جائے تو بر عکس طور پر معلوم ہوگا کہ ہندو کا ظلم مسلمان پر اگر ایک فیصد کے درجہ میں ہے تو مسلمان کا ظلم مسلمان پر 99 فی صد کے درجہ میں ہے۔ سر دھنہ کے مختلف حصوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہاں مجھے دوسرے قصبوں کے مقابلہ میں زیادہ صفائی نظر آئی۔ صفائی کا وہ معیار جو یورپ کے قصبات میں پایا جاتا ہے، اس۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page