We all are children of one Father.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۹
سا دنیا میں وہ آخرت کی کمائی کرنے والا نہیں بن سکتا۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ الرسالہ پھر ہی عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر ہے اور الرسالہ بلاشبہ عصر حاضر میں اسلامی تجدید کا کام انجام دے رہا ہے"۔
سردھنہ میں نوابوں کا ایک خاندان ہے۔ ہندوستان میں جب انگریزوں کے خلاف بغاوت ہوئی تو انھوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ انگریزوں نے اپنی حکومت کے استحکام کے بعد انھیں بہت نوازا۔ ان نوازشوں کا فائدہ اب تک انھیں مل رہا ہے۔
میں نے کہا کہ ہمارے رہ نما دو سو سال سے بتا رہے ہیں کہ انگریز ایک مسلم دشمن اور اسلام دشمن قوم ہے۔ اور اس کے ثبوت میں بتاتے ہیں کہ اس نے ہزاروں مسلمانوں کو سولی پر چڑھا دیا۔ مگر تعرف الاشیاء باضدادھا کے اصول پر سوچنا چاہیے کہ پھر کیا وجہ ہے کہ وہی انگریز سردھنہ میں (نیز دوسرے علاقوں میں) مسلمانوں کے ساتھ نوازش کا معاملہ کر رہے ہیں۔ اس پر غور کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اصل معاملہ مسلم دشمنی کا نہیں ہے۔ یہاں سے دشمنی کا ہے جو مفاد کے راستہ میں حائل ہو۔ دوسرے تمام لوگوں کی طرح، انگریز اپنے دشمن کا دشمن اور اپنے دوست کا دوست ہے۔ جس مسلمان کو اس نے اپنا مخالف پایا اس کو اس نے اپنے عتاب کا نشانہ بنایا اور جس مسلمان نے اس سے موافقت کی اس پر اس نے نوازشیں کیں۔
دہلی واپس آنے کے بعد ۱۳ اپریل ۱۹۹۶ کو میں نے سردھنہ کے نواب صاحب جان کا قصہ مسٹر اللہ صاحب (بنگلور) کو بتایا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا ہی واقعہ ہماری ریاست کرناٹک میں ہوا ہے۔ ہمارے یہاں بڑے بڑے کافی کے باغات ہیں۔ ان کے مالک پہلے انگریز تھے۔ جب وہ اپنے ملک واپس جانے لگے تو انھوں نے بالقصد اپنے باغات مسلمانوں کو دیے ۔ وہ زیادہ قیمت دینے کے لیے تیار تھے، مگر انھوں نے کم قیمت پر اسے مسلمانوں کے ہاتھ بیچ دیا۔
اس کا سبب بھی یہی ہے کہ جنوب کے مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف اس شدت کا باغیانہ سلوک نہیں کیا جو شمال کے مسلمانوں نے کیا۔ اس لیے انھوں نے جنوب
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues