دلیل نبوت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۵۴
دلیل نبوت
رمضان کا مہینہ اسلام میں روزہ کا مہینہ ہے۔ قرآن میں صومِ رمضان کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو ، تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے اگلوں پر وہ فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو (البقرہ ۱۸۳)
موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مذاہب کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا میں کوئی چھوٹا یا بڑا مذہب ایسا نہیں ہے جس میں روزہ کا تصور موجود نہ ہو۔ ہر مذہب میں کسی نہ کسی طور پر روزہ کا رواج پایا جاتا ہے۔ انسانی معاشروں کے ایک مغربی عالم نے لکھا ہے کہ یہ مشکل ہوگا کہ کسی بھی ایسے مذہبی نظام کی نشان دہی کی جائے جس میں روزہ (fasting) کو بالکل ہی نہ مانا گیا ہو :
It would be difficult to name any religious system of any description in which it is wholly unrecognized. (X/193)
مزید یہ کہ عرب قبل ازل میں اس زمانہ میں جو مذہب تھا اس میں روزہ کا رواج پایا نہیں جاتا تھا۔ چنانچہ فلپ ہٹی نے لکھا ہے کہ ہمارے پاس اس بات کی کوئی شہادت نہیں ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے مشرکانہ سماج میں روزہ کا کوئی رواج موجود تھا : We have no evidence of any practice of fasting in pre-Islamic pagan Arabia. (p. 133)
ان حقیقتوں کو سامنے رکھئے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کے مذکورہ الفاظ محض سادہ الفاظ نہیں، بلکہ وہ دلیل نبوت ہیں۔ مواصلات اور معلومات کے جدید دور سے چودہ سو سال پہلے عرب کا ایک آدمی ہرگز یہ نہیں جان سکتا تھا کہ دنیا کے تمام مذاہب میں روزہ کا رواج کسی نہ کسی طرح پایا جاتا ہے۔ جب کہ حال یہ تھا کہ اپنے قریبی معاشرہ میں وہ ایسے عمل کا مشاہدہ بھی نہیں کر رہا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خدا کے پیغمبر تھے۔ خدا کے سوا کوئی نہیں جو اس وقت آپ کو اس عالمی واقعہ کی خبر دے سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues