رمضان کا روزہ
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۵۵
رمضان کا روزہ
روزہ کا مہینہ روحانی تزکیہ کا مہینہ ہے۔ روزہ کا مہینہ خدا سے قریب ہونے کا مہینہ ہے۔ روزہ کا مہینہ ان صفات کی تربیت کا خصوصی مہینہ ہے جو کہ اسلام میں مطلوب ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں روزہ ( فاسٹنگ) کے باب کے تحت درج ہے کہ اسلام میں رمضان کے مہینہ کو توبہ کے مہینہ کے طور پر منایا جاتا ہے اور صبح سے شام تک مکمل فاقہ کیا جاتا ہے: The month of Ramadan in Islam is observed as a period of penitence and total fasting from dawn to dusk. (IV/62)
توبہ بلا شبہ اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ حتی کہ پیغمبر اسلام کو حدیث میں نبی التوبہ کہا گیا ہے۔ صحیح مسلم بشرح النووی (۱۰۵ ۱۵) توبہ اسلام کے پورے نظام سے اتنا زیادہ جڑا ہوا ہے کہ روزہ سمیت، کوئی بھی اسلامی عمل اس کی روح سے خالی نہیں۔
تا ہم قرآن میں روزہ کا حکم دیتے ہوئے اس کی جو خاص حکمت بتائی گئی ہے، وہ شکر اور تقویٰ ہے۔ قرآن کے مطابق ، رمضان کے مہینہ میں روزہ رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر شکر اور تقویٰ کی کیفیت پیدا ہو ۔ ( البقرہ )
قرآن کا ابتدائی نزول رمضان کے مہینہ میں ہوا۔ اس بنا پر وہ اہل ایمان کے لئے شکر گزاری کا مہینہ قرار پایا۔ کیوں کہ یہ اللہ کی عظیم نعمت ہے کہ اس نے قرآن کی شکل میں وہ ہدایت نامہ اتارا جو انسان کے لئے سچا رہنما بن سکے۔
تقویٰ سے مراد محتاط زندگی ہے۔ انسان کے لئے دونوں جہان کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ زندگی کے معاملات میں ہمیشہ احتیاط وا لا طریقہ اختیار کرے۔ اسی کا نام تقویٰ ہے، اور روزہ کے ذریعہ لوگوں کو اسی محتاط زندگی کی تربیت دی جاتی ہے۔ روزہ سلف ڈسپلن کی سالانہ مشق ہے۔ روزہ اختیار کے باوجود بے اختیاری کا ایک تجربہ ہے۔ اسی آدمی کا روزہ سچا روزہ ہے جو روزہ کے عمل سے اس قسم کی ذاتی تربیت پا کر نکلے جس کا روزہ اس کو حقیقی معنی میں شاکر اور متقی بندہ بنا دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues