We all are children of one Father.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۲
کی ۔ کمیاتی نوعیت کی چیزوں میں عدد کا ذکر ہو تو وہ متعین صورت میں مراد ہوگا، جیسے کعبہ کا سات بار طواف ۔ لیکن کیفیاتی نوعیت کی چیزوں میں عدد کا لفظ محض تفہیم کے لیے ہوتا ہے مثلاً " ایمان کے ستر شعبے ہیں " کا مطلب متعین مفہوم میں ستر نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب سادہ طور پر کثرت سے ہے۔ کیوں کہ ایمانی کیفیات کے اظہار کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔ جہاں تک تین سانس میں پانی پینے کی بات ہے وہ تیسیر کے لیے ہے نہ کہ تحدید کے لیے۔
ایک فاضل دیوبند نے یہ سوال کیا کہ حدیث میں تجدید دین کے بارے میں روایتیں آئی ہیں کہ ہر سو سال کے بعد ایک مجدد آئے گا وہ تجدید دین کرے گا، تو اس حساب سے اب تک ۱۴۰۰ مجدد ہونا چاہیے ۔ حالاں کہ مجددوں کی فہرست کے اندر اتنے نام نہیں ہیں۔ پھر یہ کہ تجدید دین سے مراد، جزء دین کی تجدید ہے یا کل دین کی۔ اگر کل دین کی تجدید مراد ہے۔ تو ایسا کوئی مجدد اب تک نظر نہیں آیا جس نے کل دین کی تجدید کی ہو۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسلام ایک دعوتی مذہب ہے لیکن تاریخ اسلام میں کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جس نے دعوت کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔
میں نے کہا کہ حدیث میں " سو سال " کا لفظ اعتباری ہے۔ اس کی مدت کم بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی۔ دوسری بات یہ کہ جزئی تجدید کی ضرورت حالات کی تبدیلی کے تحت پیش آتی ہے۔ کیوں کہ حالات ہمیشہ بار بار بدلتے رہتے ہیں۔ جہاں تک کلی تجدید کا تعلق ہے وہ دور کی تبدیلی پر آتی ہے۔ کلی تجدید کی ضرورت پہلی بار صرف موجودہ زمانہ میں پیش آئی ہے آج کا زمانہ ہر اعتبار سے ایک بدلا ہوا زمانہ ہے ، اس لیے وہ کلی تجدید دین کا تقاضا کرتا ہے۔ ماضی میں کلی تجدید کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ایک سوال یہ تھا کہ کبر میں اور جرات مندی میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ کبر کے پیچھے ذات کی برتری کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے اور جرات مندی کے پیچھے حق کی برتری کا جذبہ۔ ایک سوال یہ تھا کہ تواضع اور احساس کمتری میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ تواضع کی کیفیت خدا کو بلند و برتر ماننے سے ابھرتی ہے۔ اور کمتری کا احساس انسان کو بلند و برتر سمجھنے سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues