We all are children of one Father.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۳
ایک سوال یہ تھا کہ مصلحت پسندی اور مداہنت میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ مصلحت کسی اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔ اور مداہنت ہمیشہ ذاتی کمزوری کا نتیجہ ہوتی ہے۔
کون آدمی دینی مصلحت پر ہے اور کون آدمی ذاتی مداہنت پر، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ جو آدمی دینی مصلحت کی بنا پر ایک طریقہ اختیار کرے، اس کی زندگی میں تضاد نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس جو آدمی ذاتی مداہنت کی روش پر ہو، اس کی زندگی میں لازماً تضاد پیدا ہو جائے گا۔
مثلاً آپ ایک دولت مند ملک میں ہیں۔ وہاں آپ کو بہت بڑی تنخواہ مل رہی ہے اور آپ دفتر کے نظام میں حد درجہ موافقت کر کے رہتے ہیں۔ اب اگر آپ کی موافقت اصول کی بنا پر ہو تو اپنے گھر کے اندر بھی آپ اس نظام کی تعریف کریں گے جس طرح آپ دفتر میں کرتے ہیں۔ اور اگر آپ با اصول نہ ہوں تو آپ کا حال یہ ہوگا کہ دفتر کے اندر نظام کے حق میں اچھے الفاظ بولیں گے گھر کے اندر اس کے حق میں برے الفاظ۔ آپ ایک ڈبل اسٹینڈرڈ انسان بن کر رہ جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مصلحت دینی ایک با اخلاص عمل ہے، اور مداہنت سرتاسر ایک منافقانہ عمل۔ ایک عمل سے انسان کی شخصیت بلند ہوتی ہے، جب کہ دوسرا عمل آدمی کی شخصیت کو کثیف بنا کر رکھ دیتا ہے۔
۱۲ اپریل کو جمعہ تھا۔ سردھنہ کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ کافی بڑی مسجد ہے، اندر سے باہر تک نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے سوچا کہ موجودہ مسلمانوں سے جو سب سے بڑی چیز اٹھ گئی ہے وہ شکر خداوندی کا جذبہ ہے۔ چنانچہ ایک مسجد کے ساتھ کسی وجہ سے کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آ جائے تو ہر زبان اور ہر قلم اس کے پر جوش تذکرہ میں مصروف ہو جاتا ہے۔ مگر اسی ملک میں لاکھوں مسجدیں شاندار طور پر آباد ہیں اور اس کے تذکرہ میں کوئی رطب اللسان نہیں۔
جمعہ کے بعد میری تقریب کا اعلان ہوا۔ بیشتر لوگ ٹھہر گئے۔ میں نے اپنی تقریر میں علم کی اہمیت بیان کی۔ میں نے کہا کہ قرآن میں پہلی آیت (اقراء ربک) کا اترنا بتاتا ہے کہ علم سفر اسلام کا
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues