We all are children of one Father.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۹
کے درمیان مقابلہ ہو۔ یہاں ترقی کا عمل مقابلہ اور مسابقت کے ذریعہ جاری رہتا ہے، جو کبھی کبھی عداوت تک پہنچ جاتا ہے (بعضکم لبعض عدو) ہمارے علماء اور دانشوروں کی غلطی یہ ہے کہ جس واقعہ کو انھیں قانونِ فطرت کے رخ سے دیکھنا چاہیے تھا اس کو وہ انسانی سازش اور انسانی عداوت کے رخ سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر وہ معاملہ کو قانونِ فطرت کے رخ سے دیکھتے تو موجودہ صورت حال کو ایک چیلنج سمجھ کر اس کے حل کی تدبیر ڈھونڈتے۔ مگر جب انھوں نے اس کو انسانی سازش کی نظر سے دیکھا تو ان کی سمجھ میں اس کے سوا کچھ نہ آیا کہ مفروضہ دشمنوں کی سازش اور عداوت کا انکشاف کریں اور سمجھیں کہ ہم ایک کام کر رہے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ دورِ اول کے مسلمانوں کو ہم سے بھی زیادہ سازش اور مخالفت کا سامنا پیش آیا۔ مگر وہ تمام سازشوں اور مخالفتوں کو عبور کر کے آگے بڑھ گئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ شعوری اور کرداری طاقت کا ہے۔ وہ لوگ شعور اور کردار میں طاقت ور تھے اس لیے کوئی سازش انھیں نقصان نہ پہنچا سکی۔ موجودہ مسلمان شعور اور کردار کے اعتبار سے بے جان ہو چکے ہیں اس لیے وہ با آسانی ہر سازش کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جب میں دہلی واپس آرہا تھا تو میں نے سوچا کہ سردھنہ کے سفر سے مجھ سے کچھ کو کیا ملا۔ مجھے محسوس ہوا کہ سردھنہ کے دو روزہ قیام کے دوران میں نے وہاں جو کچھ دیکھا اور سنا وہ میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ بظاہر اس غیر اہم مقام پر بہت سی ایسی باتیں میرے علم میں آئیں جو اس سفر سے پہلے مجھے معلوم نہ تھیں۔
اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ اپنے معلوم“ ہی کو وہ سب کچھ سمجھ لے۔ عین ممکن ہے کہ یہاں اور بھی بہت سے باتیں ہوں جو آدمی کے لیے ابھی تک لامعلوم ہوں، حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے اسی دنیا میں وہ پوری طرح موجود ہوں۔ یہ بات انسان کے لیے بھی ہے اور دوسری چیزوں کے لیے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے سلسلہ میں ہمیشہ حسن ظن کی تاکید کی گئی ہے۔ حسن ظن آدمی کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ کسی کے بارہ میں ایسی رائے قائم کرلے جو بطور واقعہ درست نہ ہو (الحجرات ۶) یہی معاملہ دوسری چیزوں کا ہے۔ آدمی سفر میں نئے نئے مقامات دیکھتا ہے اور
‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues