Al-Risala · November 1996 · page 48

We all are children of one Father.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۸

موجودہ زمانہ میں ناراض عناصر اس قسم کی وحشیانہ کارروائیاں ساری دنیا میں کر رہے ہیں۔ البتہ مسلمانوں کو یہ خوش قسمتی حاصل ہے کہ ان کا کوئی آدمی جب ایسا فعل کرتا ہے تو اس کا عمل جہاد قرار پاتا ہے۔ اور وہ خود مجاہد کا لقب پا کر اپنی قوم کے درمیان ہیرو بن جاتا ہے۔ راستہ میں ایک جگہ ریلوے کراسنگ تھی، کوئی ٹرین آ رہی تھی، اس لیے دونوں طرف کے گیٹ بند کر دیے گئے تھے۔ ہماری گاڑی کھڑی ہوگئی۔ میں نے اتر کر دیکھا تو دونوں طرف سڑک کے اوپر دور تک گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں۔

میں نے سوچا کہ اگر کوئی کہے کہ صرف ایک ٹرین کو گزارنے کے لیے اتنی زیادہ گاڑیاں روک دی گئیں ۔ ٹریفک کا یہ اصول بالکل غیر منصفانہ ہے تو یہ جملہ قواعد کے لحاظ سے درست مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہو گا۔ کیوں کہ یہ کم تعداد اور زیادہ تعداد کا مسئلہ نہیں ، یہ ترجیح اور تنظیم کا مسئلہ ہے۔ اور جہاں اس طرح کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے وہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون کم ہے اور کون زیادہ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر معاملہ کو دیکھنے کا ایک صحیح رخ ہوتا ہے، اور دوسرا غلط رخ ۔ فرق کی اس حکمت کو جاننا بے حد ضروری ہے۔ ورنہ آدمی کسی معاملہ میں ایک فیصلہ کرے گا۔ اپنی جگہ پر وہ سمجھے گا کہ میں درست ہوں۔ حالاں کہ وہ سراسر غلطی پر ہوگا۔ اور اس کی سادہ سی وجہ یہ ہوگی کہ وہ معاملہ کو غلط رخ سے دیکھ رہا ہوگا۔

مثلاً آج کل دنیا بھر کے مسلم علماء اور دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ تمام غیر مسلم قومیں اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت پر متحد ہو گئی ہیں۔ یہود و ہنود اور صہیونی طاقتیں اور صلیبی طاقتیں سب کی سب چاہتی ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کو مٹادیں ۔

یہ نظریہ سراسر بے بنیاد ہے۔ پھر ایک بے بنیاد بات پر مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے کیوں اس طرح متفق ہو گئے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک واقعہ کو وہ غلط رخ سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ بجائے خود واقعہ ہے کہ مسلمانوں کو دنیا بھر میں غیر موافق حالات کا تجربہ پیش آ رہا ہے۔ مگر اس معاملہ کا تعلق قانون فطرت سے ہے نہ کہ انسانوں کی مخالفانہ کارروائیوں سے۔ اصل یہ ہے کہ دنیا کا نظام اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں انسانوں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page