Al-Risala · December 1996 · page 4

مرغوباتِ دنیا

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴

مرغوباتِ دنیا

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : لوگوں کے لیے خوش نما کر دی گئی ہے محبت خواہشوں کی عورتیں، بیٹے، سونے چاندی کے ڈھیر، نشان لگے ہوئے گھوڑے، مویشی اور کھیتی۔ یہ سب دنیوی زندگی کے سامان ہیں، اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے (آل عمران ۱۴) خواہشوں کی محبت (حب الشہوات) بہت عام لفظ ہے۔ اس میں دورِ قدیم کی مرغوب زوں سے لے کر موجودہ صنعتی دور کی مرغوب اشیا تک ہر چیز شامل ہے۔ ان دنیوی چیزوں کی پرمک آدمی کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ آیت کے مطابق، یہ ایک پیدائشی جذبہ ہے، کوئی بھی شخص اس سے خالی نہیں ہو سکتا۔

ایسی حالت میں ایک مومن کو کیا کرنا چاہیے ۔ اس کا بہترین جواب حضرت عمرؓ کی وہ دعا ہے جو صحیح البخاری میں بطور تعلیق روایت کی گئی ہے۔ اس کے مطابق، حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے قرآن کی مذکورہ آیت پڑھی گئی تو انھوں نے کہا : اللہم انا لا نستطيع الا أن نَفْرَحَ نَزينَتَهُ لنا۔ اللّھم إني أسألك أن أنفقَهُ في حقه (فتح الباری ۴۱۴/۱۱) دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں : لا نستطيع إلا أن نحب ما زينت لنا ، فقنی شرہ وارزقني أن انفقہ فى حقك (صفحہ ۴۱۴)

حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اے اللہ! یہ ہمارے بس میں نہیں کہ ہم ان چیزوں پر خوش نہ ہوں جن کو تو نے ہمارے لیے مزین کر دیا ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے یہ توفیق مانگتا ہوں کہ ان چیزیں کو میں ان کے حق میں صرف کروں۔

اللہ تعالیٰ کا یہ مطلوب نہیں ہے کہ مرغوباتِ دنیا کو دیکھ کر آدمی متاثر نہ ہو۔ اگر وہ متاثر نہ ہو تو پھر اس کا امتحان کس چیز میں ہوگا۔ آدمی کی کامیابی یہ ہے کہ وہ وقتی طور پر متاثر ہو مگر وہ اس میں لت پت نہ ہو جائے ۔ وہ اپنے قلبی تاثر کو عملی روش بننے سے بچائے۔ وہ ظاہری مرعوبیت سے گزر کر اس کے اندرونی غیر مرغوب پہلو کو دیکھ لے۔ دنیا سے اپنی طرف کھینچے ، اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو کھینچ کر خدا کی طرف لے جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page