چار دور
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۵
چار دور
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دور رسالت ۲۳ سال ہے۔ سیرت کی کتابوں میں اس کو کی دور اور مدنی دور میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ تقسیم صرف مکانی پہلو کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ مرحلہ نبوت کے اعتبار سے آپؐ کی ۲۳ سالہ مدت مزید کئی دوروں میں تقسیم ہوتی ہے۔ وسیع تر تقسیم کے اعتبار سے اس کو چار دور کہا جا سکتا ہے ۔ دو دور مکہ میں، اور دو دور مدینہ میں ۔ مکی زندگی کا پہلا دور (نصف اول) وہ ہے جب کہ آپ خفیہ انداز میں دعوت دیتے تھے۔ نماز بھی چھپ کر پڑھی جاتی تھی۔ قرآن کے نازل شدہ حصوں کی تلاوت بھی چھپ کر کی جاتی تھی۔ اس کو دور اسرار کہا جا سکتا ہے۔
مکی زندگی کا دوسرا دور (نصف ثانی) وہ ہے جب کہ آپؐ نے اعلان کے ساتھ توحید کی دعوت دینا شروع کیا۔ نماز اور تلاوت بھی کسی حد تک کھل کر کی جانے لگی۔ اس دوسرے دور کے سمجھنے کے لیے ہم اس کو دور اعلان کہہ سکتے ہیں۔
مدنی زندگی کا پہلا نصف دور (یا نبوت کا تیسرا دور) وہ ہے جب آپ نے "صحیفہ مدینہ“ کے ذریعہ مومنین اور مشرکین اور یہود کے درمیان حلیفانہ تعلق قائم کیا۔ اس میں ہر فریق کو اپنے مذہب اور اپنی روایات پر قائم رہنے کی ضمانت تھی۔ اس تیسرے دور کو دور مصالحت کہا جا سکتا ہے۔ مدنی دور کا دوسرا نصف حصہ وہ ہے جو فتح مکہ کے بعد شروع ہوا۔ اس دور میں پورے علاقہ میں اسلام کا غیر مشترک غلبہ قائم ہو گیا۔ یہ نبوت کا چوتھا اور آخری دور تھا۔ اس کو عمومی فہم کے لیے دور اقتدار کہا جا سکتا ہے۔
پیغمبر اسلامؐ کو جو قرآن دیا گیا اس کا کچھ حصہ پہلے دور میں اترا، کچھ دوسرے دور میں، کچھ تیسرے دور میں اور کچھ چوتھے دور میں۔ ہر دور میں آپؐ پر جو احکام اترے اس وقت آپ انہیں احکام کے مکلف تھے نہ کہ بعد کو اترنے والے احکام کے ۔ ان چار دوروں میں جو باہمی نسبت ہے وہ آغاز اور تکمیل کی نہیں ہے۔ یہ دراصل چار مختلف نوعیت کے حالات کی مثالیں ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ مسلمان جب اپنے آپ کو ان میں سے کسی دور میں پائیں تو وہاں وہ کس طرح رہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues