روایت کو توڑنا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۷
روایت کو توڑنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد امت کو سب سے زیادہ جس فتنہ سے ڈرایا تھا وہ باہمی لڑائی کا فتنہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم کسی بھی عذر کولے کر باہمی لڑائی نہ کرنا۔ کیوں کہ میری امت میں اگر ایک بار تلوار اٹھے گی تو قیامت تک وہ دوبارہ میان میں نہیں جائے گی ( إذا وضع في امتي السيف لم يرفع عنهم إلى يوم القيامة) سند احمد ایک عرب عالم اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ لوگوں نے جب خلیفہ عثمان کو قتل کیا تو انھوں نے اسلام کے لباس میں ایک بڑا سوراخ کر دیا اور جب انھوں نے امام حسین کو قتل کیا تو انھوں نے اسلام کے لباس کو پھاڑ کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا (لاحين ققتلوا عثمان احدثوا خرقا واسعا في ثوب الاسلام وحين قتلوا الحسين مزقوا الثوب تمزيات)
ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی سماج ہمیشہ روایات کے اوپر چلتا ہے۔ کوئی صحت مند روایت کسی سماج میں نہایت مشکل سے قائم ہوتی ہے۔ اور جب کسی سماجی روایت کو کھلم کھلا توڑ دیا جائے تو دوبارہ اس کو قائم کرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے سماجی روایت کو توڑنا سخت گناہ قرار دیا گیا ہے۔
رسول اور اصحاب رسول نے بے پناہ قربانیوں کے ذریعہ مسلم معاشرہ میں انسانی احترام کی روایت قائم کی تھی۔ جب مسلمانوں کے ایک گروہ نے مقدس شہر میں خلیفہ راشد کو بے دریغ قتل کیا۔ اور جب دوبارہ ایک مسلم گروہ نے نواسۂ رسول کو کھلے عام قتل کر دیا تو انھوں نے انسانی جان کے احترام کی روایت کو آخری حد تک توڑ ڈالا۔ اس کے بعد کسی کے بس میں نہیں تھا کہ وہ اس روایت کو دوبارہ قائم کرے۔ چنانچہ رسول کی پیشین گوئی کے مطابق، وہ پوری مسلم تاریخ میں جاری و ساری ہو گئی۔
کوئی شخص اگر کسی ظلم کو مٹانا چاہتا ہے تو بطور خود وہ خواہ کتنا ہی مخلص ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ روایات کو توڑے بغیر اپنا کام کرے۔ ورنہ ظلم کے خلاف اٹھنے والا خود سب سے بڑا ظالم قرار پائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues