Al-Risala · December 1996 · page 6

چار دور

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۶

ایک حدیث

ابن ماجہ اور الترمذی (کتاب الزہد) میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے رغبت ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے (ازہد فی الدنیا یحبک اللہ وازہد فیما عند الناس يحبك الناس)

دنیا سے بے رغبتی آدمی کو ذہنی یکسوئی عطا کرتی ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ حقائق مادی سے اوپر اٹھ کر حقائق معنوی کو اپنی ساری تو جہات کا مرکز بنا سکے۔ یکسوئی کا یہ عمل اس کی زندگی میں جاری رہتا ہے۔ وہ مسلسل مادیت سے روحانیت کی طرف سفر کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی شخصیت مکمل طور پر ایک روحانی شخصیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

دنیا سے بے رغبتی آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ایک ارتقا یافتہ شخصیت بن سکے۔ یہی ارتقا یافتہ شخصیت وہ چیز ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کر دیتی ہے۔ آدمی عبد رہتے ہوئے اپنے مزاج اور اپنے شاکلہ کے اعتبار سے خدا کے ہم سطح ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس کو خدا کی قربت میں جگہ ملے، وہ خدا کا پسندیدہ بندہ بن جائے۔

جب آدمی کے دل میں خدا کی محبت بیٹھتی ہے تو فطری طور پر وہ غیر متعلق چیزوں سے دور ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام زہد ہے۔ یہ زہد ہی خدا سے قریب ہونے کی قیمت ہے۔ زہد نہیں تو خدا کی قربت بھی نہیں۔

لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے رغبت ہونا نیکیوں آدمی کو لوگوں کے لیے قابل قدر اور قابل محبت بنا دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا آدمی لوگوں کی نظر میں ایک بلند انسان بن جاتا ہے۔ لوگوں کی چیزوں میں رغبت رکھنے والا آدمی لوگوں کو اپنے برابر کا انسان دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے اس کے حق میں لوگوں کے اندر قدردانی کا اعلیٰ جذبہ نہیں جاگتا۔ اس کے برعکس جو آدمی لوگوں کو بے نیاز دکھائی دے اس کو وہ اپنے سے اونچا سمجھیں گے ـــــــ خدا کا محبوب بننے کا راز خدا کا طالب بننا ہے، اور لوگوں کا محبوب بننے کا راز لوگوں سے بے نیاز ہو جانا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page