بے حساب اجر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۵۶
بے حساب اجر
قُلْ يا عِبادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ کہو کہ اے بند و جو ایمان لائے ہو، اپنے رب سے لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هُذِهِ الدُّنْيا ڈرو۔ جو لوگ اس دنیا میں نیکی کریں گے ان کے حَسَنَةٌ ۖ وَأَرْضُ اللَّهِ واسِعَةٌ ۖ إِنَّما لیے نیک صلہ ہے۔ اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔ يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب حساب (الرمز ۱۰) دیا جائے گا۔
یہ ایک انتہائی غیر معمولی بات ہے کہ کسی عمل پر بے حساب اجر دینے کا اعلان کیا جائے۔ قرآن میں اس قسم کا غیر معمولی اعلان صرف ایک عمل کے لیے کیا گیا ہے، اور وہ صبر کا عمل ہے۔ صبر کی اصل حبس ہے۔ یعنی روکنا۔ عربی میں کہا جاتا ہے : صبرت عن کذا ( میں نے اپنے نفس کو فلاں چیز سے روک دیا۔ یا صبرت عما احبّ ( جس چیز کو میں پسند کرتا ہوں اس سے میں نے اپنے آپ کو روکا )
عمل کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک ہے حد پر عمل کرنا۔ دوسرا ہے حد کے باہر جا کر عمل کرنا۔ ایک شخص آپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور آپ بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ یہ معمول کا کردار ہے۔ اس میں صبر و برداشت کا مرحلہ پیش نہیں آتا۔ یا آپ نے ایسے دین کو اختیار کر رکھا ہے جس میں آپ کے سب معاملات درست رہیں تو یہ گویا ایک حد پر رہ کر دین دار بننا ہے۔ عمل کی دوسری قسم یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں مطلوب دینی رویہ پر قائم رہے، خواہ صورت حال اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ یہ صابرانہ عمل ہے۔
یعنی دوسرا آدمی آپ کے ساتھ برا سلوک کرے تب بھی آپ اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ دوسرا آپ کو اشتعال دلائے تب بھی آپ اس سے معتدل انداز میں کلام کریں۔ حق پر قائم رہنے میں بظاہر آپ کا معاملہ بگڑتا ہو تب بھی آپ حق اور انصاف سے نہ ہٹیں، بظاہر بے اصولی اختیار کرنے میں فائدہ نظر آتا ہو تب بھی آپ پوری طرح با اصول بنے رہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت میں بے حساب انعام دیا جائے گا۔ کیوں کہ انھوں نے صبر کی قیمت پر دینی عمل کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues