Al-Risala · December 1996 · page 13

اخلاقی پستی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۳

اخلاقی پستی

سرسید احمد خاں کو ان کے مخالفین نے انگریز کا پٹھو کہا۔ اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد کو ان کے مخالفین نے ہندوؤں کا ایجنٹ بتایا۔ اس کی کیا وجہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان مخالفین نے دیکھا کہ انگریز سرسید احمد خاں کا احترام کرتے ہیں۔ اسی طرح انھوں نے دیکھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کو ہندوؤں کے درمیان ایک قابلِ احترام حیثیت حاصل ہے۔ یہ مخالفین اپنے عناد کی وجہ سے یہ اعتراف کرنا نہیں چاہتے تھے کہ غیر مسلموں کے درمیان انھیں جو احترام ملا ہے، وہ ان کی کسی ذاتی خوبی کا نتیجہ ہے۔ اس لیے انھوں نے ان شخصیتوں کو مذکورہ قسم کے القاب دے دیے تاکہ یہ ظاہر کرسکیں کہ انھوں نے یہ درجہ محض اپنی ابن الوقتی کے ذریعہ حاصل کیا ہے نہ کہ اپنی کسی واقعی لیاقت کے ذریعہ۔

اس قسم کا قول بظاہر ایک تنقید ہے، مگر حقیقۃً وہ کمینگی ہے، اور کمینگی بلا شبہ تمام غیر اخلاقی حرکتوں میں سب سے زیادہ بری اور ذلیل حرکت ہے۔

تنقید ہر آدمی کا فطری حق ہے۔ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ دوسرے آدمی میں کوئی غلط بات دیکھے تو بر ملا اس کا اظہار کرے۔ مگر یہ حق مدلل اختلاف رائے کے لیے ہے نہ کہ عیب جوئی اور الزام تراشی کے لیے۔ جو لوگ اختلاف کے وقت کمینگی کی سطح پر اتر آئیں وہ خود اپنے بارے میں زیادہ شدت کے ساتھ وہی الزام ثابت کر رہے ہیں جس کو وہ دوسرے کے اوپر چسپاں کرنا چاہتے تھے۔ کردار کی یہ قسم ہر دور میں پائی گئی ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانہ میں بھی ایسے پست نژاد موجود تھے، آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، اور وہ بدستور اسی طرح باقی رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے جب کہ لوگوں سے یہ موقع ہی چھن جائے گا کہ وہ کسی کے اوپر جھوٹا الزام لگائیں یا کسی مکروکارکشی کریں۔

صحت مند اختلاف سراپا خیر ہے مگر الزام تراشی سراپا شر ہے۔ جس سماج میں الزام تراشی کا رواج ہو ۔ لوگ ایک دوسرے کو برا القاب دینے لگیں، وہ سماج کمینہ اخلاقیات کی تربیت گاہ بن جاتا ہے۔ اور کسی سماج کے لیے اس سے زیادہ بری حالت اور کوئی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page