شرافت کی طاقت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۴
شرافت کی طاقت
سابق وائس پریذیڈنٹ آف انڈیا محمد ہدایت اللہ صاحب (۱۹۹۲ء۔ ۱۹۰۵ء) کا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ان کے پی اے مسٹر اطہر صدیقی ایم اے نے مجھے بتایا۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار پنجاب کے سکھ پیشواؤں کا ایک وفد ہدایت اللہ صاحب سے ملنے کے لیے نئی دہلی آیا۔ وہ لوگ اپنی روایات کے مطابق، کرپان لگائے ہوئے تھے۔ وائس پریذیڈنٹ کی سرکاری رہائش گاہ پر سیکورٹی کے جو لوگ تھے، انھوں نے سکھوں سے کہا کہ آپ لوگ اپنی یہ کرپانیں باہر ہمارے پاس رکھ دیں۔ اس کے بعد وائس پریذیڈنٹ سے ملنے کے لیے اندر جائیں۔ وہ لوگ اپنی کرپانیں باہر چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ ۔
اب بات بڑھی۔ سیکورٹی افسر نے ٹیلی فون کے ذریعہ وائس پریذیڈنٹ کے سکریٹری سے رابطہ قائم کیا اور صورت حال بتائی۔ سکریٹری نے آرڈر دے دیا کہ انھیں کرپانوں کے ساتھ اندر مت جانے دو، اور اگر وہ اس طرح اندر جانے پر اصرار کریں تو ان کو گرفتار کر لو۔ اطہر صدیقی صاحب نے بتایا کہ میں نے موقع کی نزاکت کو محسوس کیا۔ چنانچہ میں فوراً اندر گیا اور ہدایت اللہ صاحب سے مل کر انھیں بتایا کہ یہاں اس قسم کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ اور سیکورٹی افسر اور سکریٹری کا رویہ سراسر حکمت کے خلاف ہے۔ آپ ملٹری افسر سے براہ راست کہہ دیں کہ وہ ان لوگوں کو نہ روکیں اور انھیں کرپانوں کے ساتھ اندر آنے دیں۔ ہدایت اللہ صاحب معامل کی نزاکت کو سمجھ گئے۔ اور اس کے مطابق ٹیلی فون پر سیکورٹی افسر کو ہدایت دے دی۔ اس کے بعد سکھ وفد اپنی کرپانوں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ ہدایت اللہ صاحب کے سامنے پہنچتے ہی انھوں نے اپنی کرپانوں کو اتار کر ہدایت اللہ صاحب کے قدموں میں رکھ دیا۔ انھوں نے کہا کہ کیا ہم کمینہ پن کریں گے کہ یہاں آکر آپ کے اوپر ان کرپانوں سے حملہ کر دیں۔ آپ ہمارے لیے باپ کے برابر ہیں۔ ہم تو ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔
حکمت سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر آپ حکمت کا طریقہ اختیار کریں تو مسلح دشمن بھی اپنے ہتھیاروں کو پھینک دے گا اور آپ کی انسانیت کے اعتراف میں آپ کے قدموں پر گر جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues