روایات عائشہ ۲۲۱۰ ، روایات ابو ہریرہ ۵۳۷۴
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۸
ایک سفر
اٹلی کی ایک مسیحی تنظیم کمیونٹی آف سینٹ ایچی ڈیو کی دعوت پر اٹلی کے چند شہروں کا سفر ہوا۔ اور وہاں ایک انٹر نیشنل کانفرنس میں شرکت کی۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔
۲۰ اکتوبر ۱۹۹۵ کی صبح کو ۳ بجے گھر سے نکلا۔ ہماری گاڑی دہلی کی سڑکوں سے گزرتی ہوئی ائیر پورٹ کی طرف جارہی تھی اور مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے کہ میں دہلی کو نہیں بلکہ دنیا ہی کو چھوڑ کر چلا جارہا ہوں۔ خیال آیا کہ اگر آج نہیں تو کل ضرور مجھے اس دنیا کو چھوڑ کر اگلی دنیا کی طرف جانا ہے۔ اس کے بعد کیا پیش آئے گا، اس کے بارہ میں خداوند عالم الغیب کے سوا کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ دہلی ائیر پورٹ کی انتظار گاہ میں میرے سامنے ایک دکان ہے۔ اس کے اوپر روشن حروف میں لکھا ہوا ہے: ڈیوٹی سے مفت دکان (duty free shop) میں نے اندر کی الماریوں کی طرف دیکھا تو اس کے اندر زیادہ تر شراب کی بوتلیں رکھی ہوئی نظر آئیں۔ جہاز میں بیٹھا تو اس کے اندر بھی جہاز کا ایک آدمی مخصوص گاڑی پر شراب اور سگریٹ لئے ہوئے یہ آواز لگا رہا تھا: Selling liquor, cigarette, selling liquor, cigarette میں نے سوچا کہ جدید تہذیب نے لوگوں کو شراب میں سکون تلاش کرنے والا بنا دیا۔ اس کے بعد میرا ذہن اسلام کی طرف گیا۔ اسلام ایک ایسا مذہب تھا جو شراب کے بجائے معرفت خدا وندی میں انسان کو سکون کا راز بتا رہا تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین نے اسلام کی سیاسی تعبیر کر کے اسلام کو صرف جنگجوئی کا مذہب بنا دیا ہے۔ آج اسلام کے علمدار ساری دنیا میں تشدد کا کلچر چلا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ جدید انسان اسلام کو تشدد کا مذہب سمجھ کر اس سے متنفر ہورہا ہے نہ کہ اس کو اطمینان قلب کا راز سمجھ کر اس کی طرف دوڑے۔ ائیر پورٹ کے مناظر حسب معمول تھے۔ ایک کے بعد ایک مختلف مقامات پر جانے والی پروازوں کا اعلان ہورہا تھا، اور مسافر اٹھ اٹھ کر گیٹ کی طرف روانہ ہورہے تھے۔ اس کے بعد میری فلائٹ کا اعلان ہوا۔ ضروری مراحل سے گزرتا ہوا جہاز کے اندر داخل ہوا۔ یہ ائیر انڈیا کا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues