Al-Risala · December 1996 · page 29

روایات عائشہ ۲۲۱۰ ، روایات ابو ہریرہ ۵۳۷۴

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۹

فِلائٹ ۷۹ تھی جس کے ذریعہ مجھ کو دہلی سے روم جانا تھا۔

جسٹس ایچ آر کھنہ بھی اسی جہاز سے سفر کر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کانفرنس کی طرف سے مجھ کو دعوت نامہ ملا تو میں نے منتظمین سے ٹیلی فون کے ذریعہ رابطہ قائم کرنا چاہا مگر ربط قائم نہ ہوسکا۔ پھر میں نے چاہا کہ کورئیر سے انھیں خط بھیجوں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یورپین ایجنسی میں اس کی فیس تقریباً ایک ہزار روپیہ ہے۔ اسی درمیان میں دہلی کے پوسٹ مین سے ذکر ہوا۔ اس نے کہا کہ آپ اسپیڈ پوسٹ سے بھیجئے۔ چنانچہ انھوں نے اسپیڈ پوسٹ سے بھیجا جس کا چارج صرف چار سور وپیہ تھا۔ اس تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ اسپیڈ پوسٹ کی سروس صرف انڈیا کے لئے نہیں ہے بلکہ باہر کے لئے بھی ہے۔

جسٹس کھنہ بہت کھلے ذہن کے آدمی ہیں۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب بابری مسجد ڈھائی گئی تو انھوں نے ایل کے آڈوانی سے کہا کہ تم لوگوں نے ایسا کام کیا ہے کہ اب میرے جیسے ہندوستانی کو ہندوستان میں رہتے ہوئے شرم آئے گی ۔

Justice H.R. Khanna, 5-368, Panchshil Park New Delhi 110 017 (Tel. 6442726)

راستہ میں ایئر انڈیا کی فِلائٹ میگزین مسکار (ستمبر - اکتوبر ۱۹۹۵) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون گاندھی جی کے بارہ میں تھا۔ اس کا دو سطری عنوان اس طرح تھا : Mohandas Karamchand Gandhi, And, it was no ordinary light یہ دراصل گاندھی جی پر حال میں شائع شدہ کتاب کا ایک حصہ تھا۔ کتاب کا نام یہ ہے : A Higher Standard of Leadership:

Lessons from the Life of Gandhi by Keshavan Nair مضمون میں بتایا گیا تھا کہ سچائی کے بارہ میں گاندھی جی کا نظریہ کیا تھا۔ اس کے مطابق، سچائی (truth) ایک ایسی چیز تھی جو ہر آدمی کو الگ الگ دریافت کرنا تھا۔ ہم میں سے ہر ایک کو

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page