بہتر انسان
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۸
بہتر انسان
عن ابى هريرة ، انّ رسول الله صلى الله ابو هريرة رض کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں علیہ وسلم وقف علی ناس جلوس فقال: کی ایک مجلس کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا الا انخبکم بخیرکم من شرکم۔ میں تم کو تمہارے اندر اچھے اور برے شخص کے فقال فسكتوا - فقال ذلك ثلاث مرات - بارہ میں نہ بتاؤں۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگ چپ رہے۔ فقال رجل بلی یا رسول الله اخبرنا تب آپ نے تین بار یہی بات کہی۔ پھر ایک شخص نے بخيرنا و شرّنا۔ فقال : خیرکم کہا کہ ہاں اے خدا کے رسول، آپ ہم کو ہمارے من يُرجى خَيْرُهُ ويومَنُ شرّہُ۔ اچھے اور برے کے بارہ میں بتائیے ۔ آپ نے ( رواه الترمذی ، کتاب الفتن) فرمایا : تم میں اچھا وہ شخص ہے جس سے اس کے خیر کی امید کی جائے اور جس کے شر سے لوگ سلامت ہوں۔
یہ حدیث نہایت واضح طور پر بتاتی ہے کہ اچھا آدمی کون ہے اور برا آدمی کون ہے۔ اچھا آدمی وہ ہے جس کے بارہ میں پیشگی طور پر یقین کیا جا سکے کہ جب بھی اس سے کسی کا سابقہ پیش آئے گا تو اس کو اس آدمی سے خیر ہی کا تحفہ ملے گا۔ اس سے جن لوگوں کو بھی تجربہ ہو گا درست قول اور نیک عمل ہی کا تجربہ ہوگا۔ کوئی بھی چیز اس کو اس پر آمادہ نہیں کرے گی کہ وہ لوگوں کے ساتھ خیر کے بجائے شر کا معاملہ کرنے لگے ۔
ایسے آدمی کے اندر بلا شبہ بشر بھی چھپا ہوا ہوتا ہے ۔ کیوں کہ اس کو بھی دوسروں کی طرح خلافِ مزاج بات ناپسند ہوتی ہے ۔ اشتعال انگیز بات پر اس کو بھی غصہ آتا ہے ۔ اس کے اندر بھی نفرت اور عداوت کا طوفان جاگتا ہے۔ اس کو بھی نقصان اور زیادتی کے مواقع پر تکلیف ہوتی ہے ۔ مگر ان سب کے باوجود وہ اپنی اصولی حیثیت پر قائم رہتا ہے ۔
وہ نفسیاتی جھٹکوں کو اپنے اوپر سہتا ہے ۔ وہ خود کڑوا گھونٹ پی کر دوسروں کو میٹھا گھونٹ پلاتا ہے۔ وہ زیادتی کے واقعات کو اللہ کے خانہ میں ڈال دیتا ہے تاکہ اس کا ذہنی سکون بھنگ نہ ہو، وہ کامل یکسوئی کے ساتھ مقصدِ اعلیٰ کے لیے اپنی سرگرمی کو جاری رکھ سکے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues