Al-Risala · February 1996 · page 9

اعتدال کا طریقہ

الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۹

اعتدال کا طریقہ

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہتر عمل بیچ کا عمل ہے (خیر الامور او سطہا) حضرت علی کاایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے کہ تم درمیانی طریقہ اختیار کرو (علیکم بالنمط الاوسط) تفسیر قرطبی ۱۵۴/۲ بیچ کے عمل سے مراد اعتدال کا عمل ہے ۔ اس کی ایک مثال قرآن کی اس آیت میں ہے کہ خرچ کرنے کے معاملہ میں تم نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ لو اور نہ اس کو بالکل کھلا چھوڑ دو کہ تم ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ (بنی اسرائیل (۲۹) اسی بات کو دوسری جگہ اس طرح فرمایا کہ اور وہ لوگ کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں، اور ان کا خرچ اس کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے (الفرقان (۶۷ اس آیت کے مطابق ، انفاق اوسط یہ ہے کہ نہ بہت زیادہ نہ بہت کم ۔ بلکہ درمیانی مقدار جس کو آسانی کے ساتھ آدمی اختیار کر سکے ۔ اسی طرح نفل روزے، نفل نمازوں وغیرہ میں بھی یہ مطلوب ہے کہ آدمی بیچ کا راستہ اختیار کرے جس کو وہ دیر تک نباہ سکتا ہو۔ اس معتدل انداز کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے ۔ ہر معاملہ میں آدمی کو افراط اور تفریط سے بچنا ہے ۔ ہر معاملہ میں دو انتہاؤں کے درمیان بین بین والی صورت اختیار کرنا ہے۔ یہی طریقہ دینی مزاج کے مطابق ہے اور اسی میں کامیابی ہے۔

یہ درمیانی طریقہ دوسرے لفظوں میں غیر جذباتی طریقہ ہے۔ کوئی صورت حال پیش آنے پر جب آدمی بے قابو ہو جائے تو وہ اعتدال پر نہیں رہتا، بلکہ ایک انتہا یا دوسری انتہا کی طرف چلا جاتا ہے۔ لیکن جب آدمی اپنے جذبات کو قابو میں رکھے تو وہ سوچ کر اپنی کارروائی کا رخ متعین کرے گا۔ اور سوچ سمجھ کر کیا ہوا عمل معتدل عمل ہی ہوتا ہے۔ غیر معتدل آدمی دوستی میں بھی حد سے گزر جائے گا اور دشمنی میں بھی حد سے باہر چلا جائے گا ۔ وہ کبھی ضرورت سے زیادہ پرامید ہو جائے گا اور کبھی ضرورت سے زیادہ مایوس۔ وہ غیر ضروری طور پر کسی کو بہت اچھا سمجھ لے گا اور کسی کو بہت زیادہ برا ۔ لیکن قدرت کا فیصلہ ہے کہ اس دنیا میں معتدل آدمی کامیاب ہو اور غیر معتدل آدمی ہمیشہ ناکام۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues

Printed page