Al-Risala · December 1996 · page 46

The present glory of Florence is its Past.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۶

ہوئے۔ چنانچہ واپسی کے بعد انھوں نے اخوانی فکر کو بوسنیا میں پھیلانا شروع کیا۔ یہ جاء علی عزت بیگوویچ اور اشرف تسار مبارک کی قیادت میں یہاں کے مسلمانوں میں انقلابی بیدار لانے کے لئے کام کرنے لگی۔ اس تحریک کا عربی نام حرکتہ الشبان المسلمین تھا۔ علی عزت بیگوویچ نے کئی کتابیں لکھی ہیں جن کے ترجمے مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ مثلاً اسلام مشرق اور مغرب کے درمیان، عصرِ حاضر میں اسلامی مشکلات، اسلامی اعلان وغیرہ۔ آخری کتاب کے " باغیانہ " مضامین کی وجہ سے ۱۹۷۳ سے ۱۹۸۹ تک وہ جنرل ٹیٹو کی حکومت کے تحت جیل میں رہے۔ ایک بار مصر کے صدر جمال عبد الناصر کی ملاقات جنرل ٹیٹو سے ہوئی۔ اس ملاقات میں جنرل ٹیٹو نے صدر ناصر سے کہا تھا کہ علی عزت بیگوویچ کی تحریک ان کے لئے الاخوان المسلمون ہی کی طرح خطرناک ہے۔ کیوں کہ اس کا نظریہ حکومت پر قبضہ کرنا ہے۔ علی عزت بیگوویچ نے بوسنیا میں " جمہوری عمل پارٹی" بنائی۔ پارٹی کا بظاہر سیکولر نام انھوں نے اس لئے رکھا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ ایسا نام رکھیں جس سے یورپ یا مغربی قوتوں کو یہ محسوس ہو کہ عین مشرقی یورپ کے بیچ میں ایک نئی اسلامی حکومت قائم ہونے جارہی ہے۔ الیکشن میں علی عزت کی پارٹی کو اتنے زیادہ ووٹ نہیں ملے کہ وہ قطعی اکثریت حاصل کرلیتی۔ تاہم اس نے کثیر جماعتی حکومت میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ علی عزت بیگوویچ ملک کے صدر منتخب ہوگئے صدر علی عزت کے دور اقتدار میں بوسنیا میں اسلامی تاریخ کے احیاء کی بہت سی کوششیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی سے اذان اور دیگر علمی اور قرآنی محافل پر مبنی پروگرام نشر کئے جانے لگے۔ علی عزت کے دور حکومت میں پہلی بار صدارتی میٹنگ کو ایک گھنٹے کے لئے موخر کرکے نماز جمعہ ادا کی گئی۔ اس واقعے پر سرب اور کروات نے اپنے شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ اس رپورٹ کو پڑھ کر میں نے ایک صاحب سے کہا کہ بوسنیا کے مسلم لیڈروں کے لیے جب یہ موقع تھا کہ وہاں کے جمہوری نظام میں الیکشن کے ذریعہ وہ صدر کے عہدہ تک پہنچ سکتے تھے تو اس کی کیا ضرورت تھی کہ وہ بوسنیا کو آزاد مسلم ریاست بنانے کا اعلان کر دیں اور اس کے نتیجہ میں وہاں کے غیر مسلم عوام اور فوج سے وہ لڑائی چھڑے جو بوسنیا کے مسلمانوں کو بالکل تباہ و برباد کر دے۔ ایسے ہی نادانوں کے لیے کہا گیا ہے کہ جو آدھے پر راضی نہیں ہوتا اس کو پورا کھونا پڑتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page