The present glory of Florence is its Past.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۵
ہے یا ہر لحاظ سے مقابلے زیادہ خوش حال اور ترقی یافتہ ہے۔
ممکن ہے کوئی شخص اس کو ایک "متعصب مسیحی" کا تبصرہ کہے۔ مگر میں اس کو بالکل درست سمجھتا ہوں۔ آجکل اکثر ملکوں میں علیحدہ مسلم خطہ بنانے کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ کئی مقامات پر اس نے تشدد کی صورت اختیار کر لی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جہاں بھی موقع ملتا ہے وہ اپنا ایک "اریٹریا" بنانے کی مہم شروع کر دیتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ ان علاقوں کے لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وہ پورے ملک کو اپنا میدانِ عمل بنائیں۔ موجودہ مٹاؤ کی پالیسی نا قابل فہم حد تک بے معنی ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ نسل اندھی تقلید کی حد تک اقبال کی پرستار ہے۔ مگر یہ سب کے سب لوگ عملی طور پر اقبال کے اس شعر کا مصداق بن رہے ہیں۔
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی داماں بھی ہے ناشتہ کی میز پر جسٹس کھنہ بھی تھے۔ ان سے میں نے کہا کہ آپ جیسے سنجیدہ لوگ ہندوستان میں ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ آپ لوگ مل کر تعمیر ہند کا کوئی ابھیان کیوں نہیں چلاتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کچھ لوگوں نے اس قسم کی کوشش شروع کی تھی۔ مگر میڈیا ہمارا ساتھ نہیں دیتا۔ ہماری تعمیری باتیں بڑے اخباروں کے نزدیک قابل اشاعت نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کو تو اخبار بیچنا ہے۔ ایک اخبار والے نے کہا کہ آپ لوگوں کی بات ہمارے نزدیک خبر (news) نہیں وہ تو صرف ایک فرسوده چیز (Platitude) ہے۔
ایک صاحب نے ایک فلسطینی ادارہ کا چھپا ہوا ایک پمفلٹ دیا۔ اس کا ایک حصہ بوسنیا کے علی عزت بیگوویچ کے بارہ میں تھا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا :
علی عزت بیگوویچ 1925 میں پیدا ہوئے۔ سراجیو یونیورسٹی سے اولاً انھوں نے سوشل سائنس میں اور پھر قانون میں ڈگری حاصل کی۔ نوجوانی ہی کی عمر میں وہ بوسنیا ہر زے گوویناکی ایک اسلامی تحریک میں شامل ہو گئے۔ اس جماعت کی تاسیس بوسنیا کے دو نوجوانوں نے کی تھی جن کے نام محمد خار پنج اور قاسم دو رہا جاہیں۔ یہ دونوں قاہرہ کی جامعہ ازہر کی فیکلٹی آف شریعہ سے فارغ ہو کر آئے تھے۔ قاہرہ کے زمانہ قیام میں وہ الاخوان المسلمون سے متاثر
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues