خبر نامه اسلامی مرکز - ۱۱۶
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۹
گستاخی کرنے والے کے لیے کیا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کے عالم کا نقطہ نظر بتایا گیا۔ ۶- سنت کر پال روحانی مشن کے تحت ۲۰ستمبر ۱۹۹۶ کو ایک بڑا جلسہ ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ دنیا خدا کا باغ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس کو باغ کی نظر سے دیکھے اور اس کے ہر پیڑ اور ہر پودے سے محبت کرے۔ ۷- ہندوستان ٹائمس کے نمائندہ مسٹر سدھیر شرما نے ۲۱ ستمبر ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو جامعہ کے پرووائس چانسلر کو سلمان رشدی کا حامی بتا کر ان کے خلاف چلنے والے ایجی ٹیشن کے بارہ میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ اس قسم کا تخریبی مزاج دینی مدرسوں میں بنایا جاتا ہے۔ اس کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ یہ مزاج اگر مدرسوں میں بنایا جاتا تو اس قسم کے ہنگامے سب سے پہلے مدرسہ میں نظر آتے۔ حالاں کہ کسی بھی مدرسہ میں ایسا نہیں ہوا۔
۸- جرمنی (فرینکفرٹ) کے سفید فام اسکالرس کی ایک ٹیم ۲۳ ستمبر ۱۹۹۶ کو اسلامی مرکز میں آئی یہ نو افراد تھے۔ اس ٹیم کی لیڈر ایک سینیر خاتون (Thea Mohn) تھیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام کو برحق آپ کیوں مانتے ہیں کیا کسی استاد نے آپ کو ایسا یقین دلایا ہے۔ صدر اسلامی مرکز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میری ڈسکوری ہے۔
۹- آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۴ ستمبر ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ اس کا عنوان تھا : قرآن کا رول انسانیت کی تاریخ میں۔
۱۰- امریکہ کی یونی ورسٹی آف ساوتھ کیرولینا کے پروفیسر ڈاکٹر رابرٹ ورسنگ (Dr Robert Wirsing) نے ۲۴ ستمبر ۱۹۹۶ کو دہلی میں صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو پروفیسر کی ایک زیر ترتیب کتاب کے سلسلہ میں تھا۔ بابری مسجد کے سلسلہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا :
Babri Masjid was demolished not by Mr Hindu; it was demolished by Mr Ego. And it was Muslim leadership which turned Mr Hindu into Mr Ego.
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues