سفرنامہ یورپ ۳
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۳
سفرنامہ یورپ ۳
۲۸ ستمبر کو وگن سے برمنگھم کے لئے روانگی ہوئی۔ دوپہر کے وقت جب ہماری گاڑی برمنگھم میں داخل ہوئی تو سڑک کے عین کنارے مسجد کا منظر دکھائی دیا۔ ساتھیوں نے بتایا کہ یہاں کی گرینڈ ماسک ہے۔ اس کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اس کے بیرونی سمت میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ دوسری طرف جلی حرفوں میں انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: قرآن پڑھئے، آخری عہد نامہ:
Read AL-QURAN THE LAST TESTAMENT
برمنگھم میں میرا قیام جناب شمشاد خاں صاحب کے یہاں تھا۔ وہ مکمل طور پر دعوتی مزاج کے آدمی ہیں۔ اپنی پوری زندگی دعوہ ورک کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ وہ دعوت کے کام کا موقع نکال لیتے ہیں۔ برمنگھم میں وہ اپنا نیا مکان بنوا رہے تھے۔ مختلف قسم کے کاریگر اس میں لگے ہوئے تھے جو سب کے سب مسیحی تھے۔ ایک روز انھوں نے ان مسیحی کاریگروں سے کہا: دیکھو، تمہاری کلرجی نے تم کو کیسا بیوقوف بنا رکھا ہے۔ اس براہ راست جملہ پر وہ لوگ چونکے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیسے؟ شمشاد خاں صاحب نے کہا کہ یہ بتاؤ کہ اگر میں ایک قتل کروں اور اس کی سزا تم کو دی جائے تو کیا یہ انصاف کی بات ہوگی۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔ شمشاد خاں صاحب نے کہا کہ پھر یہ دیکھو، تمہاری کلرجی کا کہنا ہے کہ مسیح کو گناہ کے کفارہ کے لئے صلیب پر چڑھایا گیا۔ یعنی گناہ تو دوسرے انسانوں نے کیا اور اس کی سزا حضرت مسیح کے اوپر ڈال دی گئی۔ کیا یہ انصاف ہے اور کیا ایسا کہہ کر کلرجی تم کو بے وقوف نہیں بنا رہی ہے۔ ان لوگوں نے فوراً کہا: مسٹر خان، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں (Mr. Khan, you are right.)
چند سو سال پہلے مذہبی موضوعات پر اس طرح آزادانہ گفتگو نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ جدید فکری انقلاب کا کرشمہ ہے جس نے اس طرح آزادانہ انداز میں مذہب پر تبادلہ خیال کا موقع دے دیا۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے ساری دنیا میں قومی جھگڑوں کی جو سیاست چلا رکھی ہے وہ اس فضا کو درہم برہم کر رہی ہے۔
برمنگھم کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ کچھ لوگ میرے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ میرے اندر بڑائی کا احساس ہے۔ میں اپنے آپ کو بہت قابل سمجھتا ہوں۔ حالاں کہ یہ سراسر الٹی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues