استقلال میں کامیابی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۲
یہ معاملہ اتنا قطعی ہے کہ اس میں ہمارے لئے کوئی دوسرا انتخاب نہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ فطرت کے اس فیصلے کو مانیں ۔ ہم فطرت کے نظام سے مطابقت کرتے ہوئے ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔ فطرت کے مقرر نظام کو بدلنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔
ایسی حالت میں عقلمندی کا تقاضایہ ہے کہ آدمی نہ شکایت اور احتجاج میں وقت ضائع کرے، اور نہ مایوس اور پست ہمت ہو۔ وہ حقیقت پسندی کی روش اختیار کرتے ہوئے اپنا عمل مسلسل جاری رکھے۔ اس کے بعد کا میابی اس کے لئے اتنی ہی یقینی ہو جائے گی جتنا کہ شام کو سورج ڈوبنے کے بعد اگلی صبح کو دوبارہ روشن سورج کا نکلنا۔ مسلسل عمل لازمی طور پر آدمی کو اس کے مطلوب نتیجہ تک پہنچا دیتا ہے۔
قدرت کو لکڑی کا درخت اگانے کے لئے صرف چند مہینے درکار ہوتے ہیں۔ مگر جب چنار کا درخت اگانا ہو تو اس میں خود قدرت کو بھی سو سال کا وقت لگ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کا معاملہ اس سے مستثنیٰ کیوں کر ہو سکتا ہے۔
اگر آپ لمبی محنت کے اصول کو نہ مانیں تو پھر آپ کو اس پر راضی ہونا پڑے گا کہ آپ اپنی زندگی میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکیں ۔ کیوں کہ لمبی مدت تک مستقل محنت ہی کسی بڑی کامیابی کی لازمی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت دینے کے لئے تیار نہ ہو اس کو اپنے لئے کسی بڑی کامیابی کی امید بھی نہ کرنا چاہئے۔ (نوٹ : یہ تقریر ۲۸ ستمبر ۱۹۹۵ء کو آل انڈیا نئی دہلی سے نشر کی گئی) Uniform Civil Code: A Critical Study " یکساں سول کوڈ ۔ دلائل وحقائق کی روشنی میں " کے نام سے مولانا وحید الدین خان کا ایک مضمون مستقل کتابچہ کی صورت میں چھپا ہے۔ جو سول کوڈ کے مسئلہ کی نہایت طاقتور علمی تردید ہے۔ اب اس کا انگریزی ترجمہ بھی تیار ہو گیا ہے۔
کتابچہ کی اصل قیمت دس روپے ہے۔ تاہم جو افراد یا ادارے وسیع پیمانہ پر اسے مفت تقسیم کروانا چاہیں ان کے لیے رعایتی قیمت پانچ روپے ہوگی۔ کم از کم .. اکیس تعداد میں لینے پر ڈا ک خرچ ادارہ کے ذمہ ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues