Read AL-QURAN THE LAST TESTAMENT
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۵
کراچی سے ایک اردو ماہنامہ الفاروق شائع ہوتا ہے۔ اس کا شمارہ محرم صفر ۱۴۱۴ھ دیکھا۔ اس میں ایک مسلمان مقیم برطانیہ (برنلے) کا مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا : برطانیہ کی روز افزوں تباہی کے دو اہم اسباب ، سودی قرض اور کتوں کی کثرت۔ برطانیہ کے نفرت انگیز تعارف کے بعد آخر میں مضمون اس جملہ پر ختم ہوا تھا : اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مسلمانوں کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔ اللّٰھمَّ حفظنا منہ، آمین (صفحہ ۲۸)
میں نے برطانیہ کی ایک مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ میں نے پایا کہ یہاں بھی مسلمان اسی طرح " کافروں اور مشرکوں " اور یہود و نصاریٰ کے خلاف بد دعا کرنے میں مشغول ہیں جس طرح ہندوستان میں دکھائی دیتا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان جس ملک میں رہتے ہیں اس سے نہ تو ان کو وطنی محبت ہے اور نہ ان ممالک کے باشندوں کے حق میں ان کی زبان سے دعائیہ کلمات نکلتے ہیں۔ ان کے یہاں صرف اپنی قوم کے لئے دعائیں ہیں۔ انہیں شاید معلوم نہیں کہ جو لوگ دوسروں کے حق میں نیک دعائیں نہ کر سکیں ان کی نیک دعائیں خود اپنے حق میں بھی قبول نہیں ہوتیں۔
مذکورہ رسالہ میں " تبلیغی جماعت " کے بارہ میں ایک مضمون تھا۔ اس کے آخر میں امت کو دعوت کی محنت پر ڈالنے کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ دعا کی گئی تھی : اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنے دین کے لئے قبول فرمائے (صفحہ ۸) رسالہ کی اشاعت کے نویں سال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا کہ : اللہ تعالیٰ ہمیں امت مسلمہ کی مزید خدمت کی توفیق نصیب فرمائے، آمین (صفحہ ۳)
اس قسم کی باتوں کو جب میں سنتا ہوں یا پڑھتا ہوں تو میرے دل سے ایک آہ نکلتی ہے۔ میں سوچنے لگتا ہوں کہ مسلمانوں نے اسلام کو اپنا قومی افتخار بنا لیا ہے۔ اور جو مذہب قومی افتخار بن جائے وہ نہ خدا کو مطلوب ہوتا ہے اور نہ خلق کو۔
مسٹر پرویز عالم (علیگ ) بی بی سی میں ہندی سیکشن کے پروڈیوسر ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے برٹش سوسائٹی کے بارہ میں کئی باتیں بتائیں۔
انھوں نے کہا کہ سلمان رشدی کے خلاف جب مسلم دنیا میں تحریک چل رہی تھی تو
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues