Minorities in India and the national mainstream.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۶
یہاں کے مسلمانوں نے بھی اس کے خلاف جلوس نکالا۔ اس کو تمام انگریزوں نے ٹی وی پر دیکھا۔ اس میں انہوں نے دیکھا کہ مسلمان لکڑی میں باندھ کر سلمان رشدی کی کتاب اٹھا رہے ہیں۔ اس میں آگ لگاتے ہیں۔ پھر اس کو زمین پر گراکر اس کو پیروں کے نیچے روندتے ہیں۔ چیختے چلا تے او ر نعرہ لگاتے ہیں۔ وغیرہ۔
اس قسم کے مناظر تمام انگریزوں نے ٹی وی پر دیکھا تو لوگوں کے درمیان مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پیدا ہو گئی۔ وہ سمجھنے لگے کہ یہ کوئی وحشیانہ مذہب ہے۔ اب بھی جب کوئی اسلام یا مسلمان کی بات آتی ہے تو اس کے ساتھ بار بار وہ مناظر سامنے لائے جاتے ہیں۔ کبھی انگریز دیکھتا ہے کہ مسلمان اچھل اچھل کر جلتی ہوئی کتاب کو پیروں کے نیچے روند رہے ہیں۔ کبھی لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک داڑھی والا مسلمان قصائی ہاتھ میں چھری لئے ہوئے ہے اور کہہ رہا ہے : میں تم کو مار ڈالوں گا (I will kill him.)
میں نے یہاں کے ایک مسلمان سے اس کا ذکر کیا۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ کچھ مسلمانوں نے کیا تھا نہ کہ سارے مسلمانوں نے۔ میں نے کہا کہ بقیہ مسلمانوں نے اس کے خلاف مذمتی بیان کیوں نہیں دیا۔ اور جب بقیہ مسلمانوں نے اس کی مذمت نہیں کی تو اسلام کی رو سے وہ بھی اس مجرمانہ فعل میں شریک ہیں۔ حدیث کی زبان میں وہ گونگے شیطان ہیں۔ ناگپور کے ایک ادارہ انڈیا پیس سنٹر (India Peace Centre) نے گاندھی پیس فاؤنڈیشن (نئی دہلی)، اور انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز (واردھا) کے تعاون سے نومبر ۱۹۹۳ میں ایک چھ روزہ اسٹڈی کیمپ منعقد کیا۔ اس اسٹڈی کیمپ میں ملک کے تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کی تھیم تھی قومی دھارا اور اقلیت :
Minorities in India and the national mainstream.
اس کے منتظمین کی طرف سے مجھے دعوت نامہ ملا تھا کہ میں ۶ نومبر کو اس کے آخری اجلاس میں اختتامی خطاب (Valedictory address) پیش کروں۔ اس کے لئے مجھے ایک گھنٹہ کا وقت دیا گیا تھا۔ سفر سے پہلے دہلی میں میں نے ایک پیپر لکھنا شروع کیا۔ مگر محسوس ہوا کہ یہ موضوع بے حد مشکل ہے۔ کوشش کے باوجود پیپر تیار نہ ہوسکا۔ برمنگھم میں جب کہ میں جناب شمشاد محمد خاں صاحب
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues