اجتہاد مطلق، اجتہاد مقید
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۶
ہمارے علماءءء نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی تاکہ ہند اور مسلمان دونوں فرقے متحد ہو کر انگریزوں کے خلاف لڑ سکیں، اس وقت ایک طبقہ نے علما کے اس موقف پر سخت تنقید کی۔ حتی کہ اس بنیاد پر کفر کے فتوے بھی صادر کیے گئے ۔ ان صاحبان کی نظر اس آیت پر تھی جس میں اہل اسلام کو غیر مسلموں کے ساتھ دوستی اور تعاون سے منع کیا گیا ہے۔ علماء بلا شبہ اس قرآنی حکم سے بے خبر نہیں تھے لیکن ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کی ایک ایسی عملی نظیر موجود تھی جس کی روشنی میں اجتہاد کرتے ہوئے انھوں نے پیش قدمی کر کے غیر مسلموں کے ساتھ تعاون کیا۔
جس وقت مکہ والوں نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو آپ حکم خداوندی سے ہجرت کی تیاری میں لگ گئے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ سیرت کی تمام مستند کتابوں میں یہ ملتا ہے کہ آپ نے صحرائی راستوں کے ایک ماہر سے ربط قائم کیا تاکہ اس کی رہنمائی میں آپ ایسے خفیہ اور مختصر راستے سے مدینہ کا سفر کریں کہ مکہ والے آپ تک نہ پہنچ سکیں۔ صحرائی راستوں کا یہ ماہر مشرک تھا جس کا نام عبداللہ بن اُریقط بتایا جاتا ہے۔ یہ استعانت بالکافر کی ایک قطعی مثال ہے۔
اس عملی نظیر پر قیاس کرتے ہوئے ہمارے علما نے غیر مسلموں کے ساتھ تعاون کا جو فیصلہ کیا وہ بلاشبہ ایک درست فیصلہ تھا۔ جہاں تک قرآن کی مذکورہ آیت کا معاملہ ہے تو اس کا تعلق در اصل ان غیر مسلموں سے ہے جو نہ صرف اسلام کے دشمن ہوں بلکہ بالفعل وہ اس کے خلاف بر سر جنگ ہو گئے ہوں۔ ایسے لوگوں سے دوستی اور تعاون غداری کے ہم معنی ہے جس کی حرمت میں کوئی اختلاف نہیں۔ اجتہاد کی شرطیں اجتہاد نام ہے ۔ شرعی مآخذ کی روشنی میں غیر منصوص مسائل کا استنباط کرنے کا ظاہر ہے کہ یہ ایک بے حد نازک کام ہے۔ مگر وہ جتنا نازک ہے اتنا ہی زیادہ وہ ضروری ہے۔ اسی لیے علماء اصول نے لکھا ہے کہ کسی وقت اگر ایک ہی مجتہدانہ صلاحیت رکھنے والا آدمی پایا جائے تو اس پر اجتہاد کرنا فرض عین ہو جائے گا۔ اور اگر اجتہاد کی مطلوبہ صلاحیت کے حامل کئی افراد ہوں تو اس وقت اجتہاد فرض کفایہ ہوگا۔ یعنی اگر ان میں سے ایک شخص نے اجتہاد کر کے شرعی حکم بتا دیا تو بقیہ کے اوپر سے یہ فرض ساقط ہو جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ شرائط اجتہاد کیا ہیں۔ کوئی شخص کب اس قابل بنتا ہے کہ وہ بوقت
‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues